307

ایمہ اورخطباءکیلئے تعلیم کی اہمیت

ایمہ اورخطباءکیلئے تعلیم کی اہمیت

گزشتہ دنوں چیرپرسن وقف بورڈ درخشاں اندرابی کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہمارے ائمہ اور خطباءکا سند یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ دین کی صحیح سمجھ پیدا کریں اور قوم کی صحیح رہنمائی کا حق ادا کرسکیں ۔ان کی اس بات پر بہت سے حلقے خفاءبھی ہوئے اوراس کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا بھی سلسلہ شروع کیا تاہم اگر اس بات کی گہرائی کے ساتھ جانچ کی جائے کہ ہمارے ہاںجتنے بھی ائمہ ، خطباءاور موذن ہیں ان میں سے کتنے دینی تعلیم کی معتبر سندیں رکھتے ہیںتو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔ہمارے بیشتر امام صاحبان کے پاس اگر کو ئی سند ہے تو وہ حافظ قرآن ہونے اور احادیث کی کتابیں پڑھنے کی سندیں ہیں جبکہ دینی علم اورسمجھ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ پڑھا جائے اور سمجھا جائے ۔اس کے اندر جو علم کے سمندر پوشیدہ ہیں ان تک رسائی حاصل کی جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب مروجہ علوم بھی حاصل کئے جائیں ۔مروجہ علوم انسان کو کائنات سے متعلق جو معلومات فراہم کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے ساتھ تہذیبوں کے عروج و زوال کے اسباب کی جو سمجھ پیدا کرتے ہیں وہ قرآن کو سمجھنے میں کافی مددگار ہوتے ہیں ۔انسان کو دنیا میں بھیجنے والا اللہ ہی ہے ۔ آدم کو جب دنیا میں بھیجا گیا اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اسے زندہ کیسے رہنا ہے ۔ اسے دنیا میں آکر کیا کرنا ہے یہ سمجھ اللہ ہی اسے دیتا ہے اور پھر اس کی نسلیں انسانی تہذیب کے ارتقاءکی طرف بڑھتی ہے ۔ تہذیبیں بنتی ہیں اورفنا بھی ہوتی ہیں ۔پھر اللہ انسان کو یہ سکھانے کے لئے کہ اسے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اور دنیا میں کیا کردار ادا کرنا ہے پیغمبروں کو ودیعت کرتا ہے ۔ قرآ ن اللہ کی آخری کتاب ہے جس میں انسانی ارتقاءکی تاریخ بھی موجود ہے لیکن یہ تاریخ اس طرح سے بیان ہوئی ہے کہ اس سے انسان کو اپنے وجود کو اور اللہ کو پہچاننے کا شعور پیدا ہو تاکہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کے احکامات کے تابع بناکر اس دنیامیں اس کے پیغام کو عام کرے ۔یہی علم ائمہ اور خطباءمیں موجود ہونا چاہئے تاکہ وہ صحیح طور پر دینی رہنمائی کاحق ادا کرسکیں ۔جبکہ وہ ایسا نہیں کررہے ہیں کیونکہ ان کے پاس قرآن کی سمجھ بھی نہیں ہوتی ہے ۔اس لئے وہ صرف ان روایتوں کو ہی آگے بڑھاتے ہیں جو ایسے ہی لوگوں نے قائم کی ہوئی ہیں ۔ وہ قرآن کا آفاقی پیغام عام کرنے کے بجائے جنت حاصل کرنے کے شارٹ کٹ بتاتے ہیں ۔داڑھی اتنی لمبی ہو تو اتنے ثواب حاصل ہوں گے ۔ وضو اس طرح کیا جائے تو اتنے ثواب ملیں گے ۔جبکہ اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور وہ یہ سکھاتا ہے کہ ایک بہتر معاشرہ کس طرح سے تعمیر کیا جاسکتا ہے ۔ ایک سادہ اور پروقار زندگی کس طرح سے جینے کا اللہ حکم دیتا ہے ۔غم کیا ہے اورخوشی کیا ہے ۔ پچپن کس طرح سے گزارا جائے ۔ جوانی کیسے بسر کی جائے اور بڑھاپے میں کیا کچھ کیا جائے ۔انسانی رشتوں کی بنیاد کیا ہے اور انہیں کس طرح سے نبھایا جائے ۔وہ باپ بیٹے کا رشتہ ہو ۔ بیٹی اور باپ کا رشتہ ہو ۔ ماں اوراس کی اولاد کا یا ازدواجی رشتہ ہو ان رشتوں کو مستحکم اور خوشگوار بنانے کے لئے کس کے کیا فرائض ہے ۔یہ علم بہت وسیع اور بہت گہرا علم ہے جو اگر ایمہ اورخطباءمسلمانوں کو دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو مسلم معاشرہ بے شک ایک مثالی معاشرہ ہوگا ۔اور پھر دنیا ایسے معاشرے کو دیکھ کر اسلام کی تعلیمات کے خود بخود قائل ہوجائیں گے ۔ جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے ۔شاہ ہمدان اوران کے ساتھیوں کو دیکھ کر ہی کشمیر کے برہمنوں نے اسلام قبول کیا کیونکہ ان کے سامنے وہ تصویر پیش ہوئی جو انہیں ہر ایک انسانی مسئلے کا حل پیش کرتی ہوئی نظر آئی ۔چنانچہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہمارے امام ، ہمارے موذن ، ہمارے ایمہ اور ہمارے خطباءلازمی طورپر تعلیم یافتہ ہوں ۔ ان میں معاشرے کو اصل اسلامی معاشرے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں