56

سرکاری اسکولوں اور اساتذہ کی درجہ بندی کاغیر معمولی اقدام

جموں کشمیر میں سرکاری اسکولوں اور اساتذہ کی کارکردگی نیز سہولیات کو جانچنے کا نیا طریقہ ،کل20سوالات ہونگے
طلباءوطالبات اور والدین سے جواب اور تجاویز لی جائیں گی، اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کوملیں گے فوائد: پرنسپل سکریٹری
سرینگر05جولائی
جموں و کشمیر، طلبہ اور اُن کے سرپرستوں یعنی والدین کی تجاویز سے اب اسکولوں اور اساتذہ کو ریٹنگ یعنی درجہ بندی دینے والی پہلی ریاست بننے جارہی ہے۔ حکومت اگست کے مہینے سے اسکولوں اور اساتذہ کی پہلی ریٹنگ لسٹ جاری کرے گی۔جے کے این ایس کے مطابق OTP پر مبنی ریویو ایپ کے ذریعے کل 20 سوالات پر کلاس6 سے12ویں کے طلباءوطالبات اور والدین سے تجاویز لی جائیں گی۔ اس میں10 سوالات اسکول سے متعلق ہوں گے اور 10 سوالات اساتذہ سے متعلق ہوں گے۔ ان کا جواب ہندی، انگریزی یا اُردو کسی بھی زبان میں دیا جا سکتا ہے۔معلوم ہواکہ اسکول سے متعلق 10 سوالوں میں، صبح کی دعائیہ تقریب، قومی ترانہ، پرنسپل یاہیڈماسٹر موجود تھے یا نہیں، بیت الخلائ، پینے کے صاف پانی، مڈ ڈے میل میں کھانا و صفائی ہوتی ہے یا نہیں، لائبریری میں کتابیں ہیں یا نہیں جیسے نکات شامل ہوں گے۔ ریٹنگ کےلئے زیرتعلیم طلبہ کے سرپرستوں کا سارا فیڈ بیک خفیہ ہوگا۔ پانچویں کلاس تک کے طلبہ کے سیکھنے، پڑھنے کی صلاحت میں بہتری کےلئے ملک میں پہلی بار ہر 10 پر ایک ٹیچر مینٹورکے طو رپر کام کرے گا۔حکومت جموں و کشمیر کے پرنسپل سکریٹری برائے اسکولی تعلیم آلوک کمار نے کہا کہ اسکولی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جی20 ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ان منصوبوں کے بارے میں بھی معلومات دی گئی ہیں۔ جائزہ ایپ مجموعی تعلیمی مہم کے تحت بنائی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ اساتذہ کو اس ریٹنگ کا سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ ریٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو ٹرانسفر پوسٹنگ سے لے کر ترقیوں تک فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایسے محنتی اساتذہ کو بطور انعام مستقبل کے اسکولوں یعنی ماڈل اسکولوں میں خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملے گا۔ جب کہ جن اسکولوں کی ریٹنگ اچھی ہے، ان کے طلبہ اور اساتذہ کا تناسب بڑھے گا، بنیادی سہولیات میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں