نئی دہلی، 28 دسمبر (یو این آئی) عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی اور تجارتی تناؤ کے دوران گزشتہ ایک سال میں سونے چاندی میں زبردست تیزی رہی اور ایک طرف جہاں دونوں قیمتی دھاتیں عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئیں، وہیں سرمایہ کاروں کو خوب فائدہ ہوا ایم سی ایکس انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق، احمد آباد میں سونے کی قیمت 31 دسمبر 2024 کو 75,913 روپے فی دس گرام تھی جو 26 دسمبر 2025 کو بڑھ کر 1,37,591 روپے پر پہنچ گئی۔ اس طرح، اس کی قیمت 81 فیصد سے زیادہ بڑھی۔ اس دوران چاندی بھی 85,851 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 2,28,948 روپے فی کلوگرام پر پہنچ گئی۔ اس کی قیمت ایک سال میں 167 فیصد بڑھی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی واقعات ہیں۔ ایک طرف روس یوکرین جنگ اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری جدوجہد کے باعث محفوظ سرمایہ کاری مانی جانے والی پیلی دھات کی مانگ بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ، تجارتی تناؤ بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ سرمایہ کار ہی نہیں، مختلف ممالک کے مرکزی بینک بھی سونا خرید رہے ہیں۔
ایک طرف جہاں قدر میں سونے کی کھپت بڑھی ہے، وہیں حقیقی کھپت میں کمی آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس کی آسمان چھوتی قیمتیں ہیں جس سے یہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور چلا گیا ہے۔ آل انڈیا جیم اینڈ جیولری ڈومیسٹک کونسل (جی جے سی) نے سونے چاندی میں تیزی کے لیے عالمی عوامل کے ساتھ ملک میں شادی بیاہ اور تہواروں کی مانگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بڑھتی قیمتوں کے درمیان ملک میں اس کی سرمایہ کاری کی مانگ بھی بنی ہوئی ہے۔ اس نے نئے سال میں بھی تیزی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
جی جے سی کے چیئرمین راجیش روکڑے نے کہا کہ سال 2025 نے ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ قیمتی دھاتیں اہم اثاثہ ہیں۔ سونے کی تاریخی تیزی ہندوستانی کنبوں کے نسلوں سے اس میں قائم بھروسے کی تصدیق ہے۔ دوسری طرف، شمسی آلات، قابل تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں میں بڑھتی ہوئی کھپت کی وجہ سے چاندی میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر لندن بلین مارکیٹ میں اس سال سونا 70.7 فیصد چڑھ کر 4,482 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ چاندی بھی 135 فیصد کی تیزی کے ساتھ 69.22 ڈالر فی اونس پر رہی۔ دونوں قیمتی دھاتوں میں بیرون ملک رہی تیزی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی گراوٹ سے ملک میں ان کے دام بڑھے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سونا 60 فیصد سے زیادہ مہنگا ہوا ہے۔ کئی دہائیوں میں یہ سونے کی بہترین کارکردگی ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ سرمایہ کاری کی مانگ ہے۔ انتہائی کشیدہ جغرافیائی سیاسی ماحول اور کمزور امریکی ڈالر کی وجہ سے سرمایہ کار سونے میں پیسہ لگا رہے ہیں۔ ساتھ ہی مرکزی بینکوں کی جانب سے بھی اس کی طلب میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ ریزرو بینک کی دسمبر کی ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی افادیت برقرار ہے۔ قدر کے لحاظ سے یہ سب سے مستحکم کموڈٹی ہے۔ وہیں، سونے کے مقابلے میں غیر مستحکم ہونے کے باوجود چاندی بھی کافی حد تک محفوظ سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے۔
سونے کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے شادی بیاہ کے موقع پر اس کی مانگ کم ہوئی ہے۔ لوگ اب پہلے کے مقابلے میں زیورات کم خرید رہے ہیں یا کم کیرٹ کے زیور لینا پسند کر رہے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، اس سال ہندوستان میں سونے کی مانگ میں 12 فیصد کمی کا تخمینہ ہے۔ وہیں، سونے کے بسکٹ اور سکوں کی مانگ بڑھی ہے۔ سرمایہ کاروں کے علاوہ صرافہ کاروباری اور شو روم چین کو بھی بہت منافع ہو رہا ہے۔ یہ میکنگ چارجز فیصد میں لیتے ہیں جس سے سونا چاندی جتنی مہنگی ہوتی جا رہی ہے میکنگ چارجز کی خالص مالیت اتنی ہی بڑھ رہی ہے۔
