تہران، 11 جنوری (یواین آئی) ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کو 14 دن مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ایران ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق تنظیم نے بتایا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش اور سخت پابندیوں کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کے درست اعداد و شمار جمع کرنا ممکن نہیں رہا، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق ایران میں جاری احتجاج کے دوران کئی علاقوں سے اطلاعات موصول نہیں ہو پا رہیں، جبکہ تہران سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے بدستور جاری ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں شہریوں کے تحفظ، آزاد معلومات کی فراہمی اور انٹرنیٹ بحالی کے لیے دباؤ بڑھائے، تاکہ زمینی حقائق سامنے آ سکیں۔
0
