سرینگر:12 جنوری:(عقاب نیوز ڈیسک)
ایران میں جاری حالات کے باعث وہاں زیرِ تعلیم کشمیری اور دیگر بھارتی طلبہ سے والدین کا رابطہ منقطع ہونے پر شدید خوف و بے چینی پائی جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ ایران میں مقیم بھارتی طلبہ، بالخصوص کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی حفاظت، سلامتی، عزت و وقار اور مجموعی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایران میں جاری بدامنی کے سبب کشمیری طلبہ کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں اپنے بچوں کی جان و سلامتی کے حوالے سے سخت خدشات لاحق ہیں۔
ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خیوہامی نے ایران میں زیرِ تعلیم سینکڑوں بھارتی طلبہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں اکثریت جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی ہے جو کم خرچ تعلیمی نظام اور بھارت کے ساتھ ایران کے دیرینہ تعلیمی و عوامی روابط کے باعث وہاں ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ طبی کورسز کر رہے ہیں۔
ناصر خیوہامی کے مطابق کئی والدین گزشتہ چار دنوں سے اپنے بچوں سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام ہیں، جس سے ان کے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ فون کالز نہیں مل رہیں، میسجنگ سروسز معطل ہیں جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جو واحد ذریعۂ تسلی تھے، بھی بڑی حد تک خاموش ہیں، جس کے باعث خاندان شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے مختلف صوبوں میں قائم میڈیکل یونیورسٹیوں میں تقریباً دو ہزار کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو مقامی ہاسٹلز، یونیورسٹی انفراسٹرکچر، عوامی ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ بدامنی کے دوران یہ صورتحال انہیں خاص طور پر غیر محفوظ اور بے یار و مددگار بنا رہی ہے۔
ناصر خیوہامی نے کہا، “جے کے ایس اے کو طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے مسلسل تشویشناک فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں نقل و حرکت پر پابندی، وقفے وقفے سے انٹرنیٹ کی بندش، بروقت حفاظتی ہدایات کی کمی اور کسی واضح ہنگامی یا انخلائی منصوبے کی عدم موجودگی پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔”
ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزارتِ خارجہ کو ہدایت دیں کہ ایران میں بھارتی طلبہ اور تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے کے درمیان چوبیس گھنٹے رابطہ نظام قائم کیا جائے، جس میں خصوصی ایمرجنسی ہیلپ لائنز، سفارتی حکام کی باقاعدہ رسائی اور بروقت و واضح حفاظتی ہدایات شامل ہوں۔
اس کے ساتھ ہی ایسوسی ایشن نے ایک جامع انخلائی اور ہنگامی منصوبہ تیار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ناصر خیوہامی کا کہنا تھا کہ اگر سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے یا بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو بروقت انخلاء طلبہ کی جانیں بچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “حکومتِ ہند کو ہر حال میں تیار رہنا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر بھارتی طلبہ کو بحفاظت وطن واپس لایا جا سکے۔”
جے کے ایس اے نے مزید مطالبہ کیا کہ وزارتِ خارجہ تہران میں بھارتی سفارت خانے کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے اور ایرانی حکام سے سفارتی سطح پر بات چیت کر کے بھارتی طلبہ کے تحفظ، سلامتی اور عزت و وقار کو یقینی بنائے، تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بھارتی شہریوں کو بچایا جا سکے۔
