0

بارش اور ایران جنگ کے اثرات نمایاں، عید سے قبل کشمیر کے بازاروں میں رونق ماند

سرینگر: کشمیر میں عیدالفطر سے قبل بازاروں میں اس بار پہلے جیسی رونق نہیں ہے۔ بارش، مہنگائی اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات نے خریداری کا جوش کم کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اس مہینے کے شروع میں وادی میں ایک ہفتے تک احتجاج بھی ہوئے جس سے ماحول مزید متاثر ہوا۔

سرینگر کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس بار عید سے پہلے بازاروں میں لوگوں کی تعداد روایتی مشاہدے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ “بارش نے نہ صرف خوشی کا ماحول متاثر کیا بلکہ موسم بھی سرد ہو گیا۔”

پچھلے ایک ہفتے سے کشمیر میں موسم نے کروٹ بدلی نتیجتاً دن کا درجہ حرارت 20 ڈگری سے کم ہو کر محض 10 ڈگری سیلسیس تک آ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات سرینگر کے مطابق جمعہ کو موسم ابر آلود رہے گا اور کہیں کہیں ہلکی سے درمیانہ درجے کی بارش کا امکان ہے۔ جبکہ چناب وادی اور جنوبی کشمیر کے بالائی علاقوں میں برفباری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

غلام احمد کمار نامی ایک بزرگ خریدار نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: “بارش کی وجہ سے لوگ بڑے بازاروں خاص کر لال چوک آنے کے بجائے اپنے قریبی بازاروں سے خریداری کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔” انہوں نے موسم کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ “موسم کی وجہ سے بھی خریداری ماند پڑگئی ہے۔”

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 21 سے 31 مارچ تک زیادہ تر موسم خشک رہے گا، صرف 23 مارچ کو چند مقامات پر بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہفتہ 21 مارچ کو منائی جانے والی عید کے دن موسم خشک رہے گا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں وادی کشمیر میں 25 سے 30 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ گلمرگ میں 23 سینٹی میٹر برفباری ریکارڈ کی گئی۔
تاجروں اور مقامی لوگوں کے مطابق خراب موسم اور ایران کے رہنما کے قتل کے بعد ہونے والے ایک ہفتے کے احتجاج نے عید کی خریداری کے جوش کو کم کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد سرینگر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم دوسرے روز ہی حکام نے ایک ہفتے کے لیے نہ صرف پابندیاں عائد کیں بلکہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات اور 4G، 5G اور پری پیڈ موبائل خدمات بند کر دیں۔ تاہم پابندی ہٹائے جانے کے بعد بازاروں میں رونق لوٹ آئی جبکہ لوگوں خاص کر سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک کے تاجروں، دکانداروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال عید کا رش خاصا ماند پڑگیا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران کشمیر میں کاروباری سرگرمیاں سرینگر ، خاص کر لال چوک سے باہر دوسرے علاقوں بشمول نواحی علاقوں تک بھی پھیل گئی ہیں، جہاں نئے شاپنگ سینٹر بنے ہیں۔

سرینگر کے لال چوک، گونی خان اور مہاراجہ بازار جیسے علاقے عید سے پہلے بہت مصروف ہوتے تھے، جہاں لوگ کپڑے، بیکری ، گوشت اور دیگر چیزیں خریدتے تھے۔ اس بار کپڑوں کی دکانوں کے مقابلے میں بیکری اور گوشت کی دکانوں پر نسبتاً زیادہ رش ہے۔

گونی خان بازار کے ایک دکاندار جاوید احمد ڈار نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ “ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ کی وجہ سے عید کی رونق کم ہو گئی ہے۔” ایک اور دکاندار روہت نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں کہ گرم کپڑے خریدیں یا گرمی کے۔ مہنگائی نے بھی لوگوں کی خریداری کی طاقت کم کر دی ہے۔
ادھر، کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے سینئر رکن قاضی توصیف کے مطابق پہلے عید کے موقع پر تقریباً 2500 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا تھا، جبکہ اس بار یہ کم ہو کر 1500 کروڑ روپے رہنے کی خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “بیکری اور گوشت کی اشیاء سب سے زیادہ خریدی جا رہی ہیں، اس کے بعد گھریلو سامان اور کپڑے آتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، آن لائن خریداری، لوگوں پر بڑھتے قرضے اور بینکوں کی جانب سے چھوٹے تاجروں کو قرض نہ ملنا بھی بازاروں کو متاثر کر رہا ہے، اس لیے اس بار کاروبار 1500 کروڑ سے بھی کم رہ سکتا ہے۔
(ای ٹی وی بھارت)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں