سری نگر،12 مارچ (یو این آئی) جموں میں سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہوئے ناکام حملے کے بعد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ایک سنگین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ اس طرح کے واقعات جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے ردِعمل میں کہا:’ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب پر شدید نوعیت کے حملے کی خبر سن کر دھچکا لگا، لیکن یہ جان کر سکون ہوا کہ وہ محفوظ ہیں۔ امید ہے کہ پولیس اس سیکورٹی خامی کے پیچھے چھپی تمام حقیقتوں تک ضرور پہنچے گی۔‘
فاروق عبداللہ بدھ کی شب گریٹر کیلاش، جموں میں ایک شادی کی تقریب سے روانگی کے دوران اس وقت بال بال بچے جب ایک شخص نے اُن پر پیچھے سے بھرے پستول سے گولی چلائی۔ گولی کسی کو نہیں لگی جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو فوراً دبوچ لیا۔ حملہ آور کی شناخت کمل سنگھ جموال (63) ساکن پرانی منڈی جموں کے طور پر ہوئی، جس نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ 20 برس سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کی تلاش میں تھا۔
کشمیری مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:’یہ خبر انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ ایک مسلح شخص اتنی آسانی سے فاروق صاحب کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا۔ معاملے کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتہائی پریشان کن ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے واقعے کو’’بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے کہا:’ڈاکٹر فاروق صاحب، سریندر چودھری جی اور ناصر اسلم صاحب پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ سب محفوظ ہیں۔ ایسے واقعات سیاسی ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہوتے ہیں۔‘
بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما ایم وائی تاریگامی نے اسے سنگین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا: ’یہ انتہائی خطرناک واقعہ ہے۔ خوشی ہے کہ فاروق صاحب محفوظ رہے لیکن ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ ایک شخص بھرے پستول کے ساتھ اتنا قریب کیسے پہنچا۔‘ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ریاست میں وی وی آئی پی سکیورٹی سسٹم پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملہ آور کے محرکات اور ممکنہ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی میں آئے اس بڑے رخنے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
0
