سری نگر، 30 مارچ (یو این آئی) جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات نے جنگلاتی حدود کے سروے اور نشاندہی کے لیے جدید ‘ڈیفرینشل گلوبل پوزیشننگ سسٹم’ (ڈی جی پی ایس) ٹیکنالوجی اپنا کر جنگلاتی اراضی کے تحفظ کی سمت میں ایک بڑی تکنیکی چھلانگ لگائی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جنگلاتی زمین کی حفاظت کرنا محکمے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مینڈیٹ کا ایک اہم حصہ سرحدوں کی درست نشاندہی کرنا ہے۔ جموں و کشمیر میں جنگلات کی حد بندی کا سلسلہ سال 1914 سے چلا آ رہا ہے، جب مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور حکومت میں ‘جموں و کشمیر فارسٹ کانفرنس’ نافذ کی گئی تھی۔ اس کانفرنس کے بعد جنگلات کی بڑے پیمانے پر حد بندی کی گئی اور تفصیلی ریکارڈ تیار کیے گئے، جن میں سرحدی ستونوں کی تفصیلات، فارسٹ رجسٹر، فارسٹ ایریا رجسٹر اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل تھیں۔
محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’’وقت گزرنے کے ساتھ قدرتی اور انسانی عوامل کی وجہ سے سرحدی ستون اکثر خراب یا اپنی جگہ سے ہٹ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حد بندی کی تجدید کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ، محکمے نے حد بندی کی تجدید کے دوران سرحدی ستونوں کے ‘جیو کوآرڈینیٹس’ ریکارڈ کرنے کے لیے جی پی ایس کا استعمال شروع کیا تھا، جو تقریباً تین سے پانچ میٹر تک کی درستگی فراہم کرتا تھا۔
اب سروے کی سطح اور سینٹی میٹر کی سطح تک درستگی حاصل کرنے کے لیے، محکمے نے ڈی جی پی ایس ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے۔ ڈی جی پی ایس میں تین اہم اجزاء خلائی سیگمنٹ (سیٹیلائٹس)، یوزر سیگمنٹ (جی این ایس ایس ریسیورز اور روور) اور کنٹرول سیگمنٹ جو ایک بیس اسٹیشن یا ‘کارس’ نیٹ ورک ہو سکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ جب ‘کارس’ نیٹ ورک کے ساتھ کنیکٹی وٹی میسر نہیں ہوتی، تو محکمہ اپنا ذاتی ‘بیس اسٹیشن’ قائم کر سکتا ہے۔ بیس اسٹیشن دراصل ایک مستحکم مقام پر رکھا گیا دوسرا ‘رووَر‘ ہی ہوتا ہے، جو مسلسل سیٹلائٹ سگنلز کی نگرانی کرتا ہے اور مقام کے تعین میں ہونے والی غلطیوں یا فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد ان درستگیوں کو روور کو بھیجا جاتا ہے، جو درست نقاط حاصل کرنے کے لیے ‘ریئل ٹائم’ میں ان کا اطلاق کرتا ہے۔
ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے محکمہ اب جنگلاتی سرحد کے ستونوں کے بالکل درست نقاط درج کر سکتا ہے اور ڈیجیٹل فارسٹ میپ (نقشے) تیار کر سکتا ہے، جس سے جنگلاتی زمین کی حفاظت اور سرحدی انتظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ڈی جی پی ایس ٹیکنالوجی کو اپنانے سے جموں و کشمیر میں تجاوزات کو روکنے، سرحدی تنازعات کو حل کرنے اور جنگلات کا درست ریکارڈ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔”
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں 20,194 مربع کلومیٹر جنگلاتی علاقہ ہے، جو اس کے مجموعی جغرافیائی رقبے کا 47.8 فیصد بنتا ہے۔ اس میں کشمیر میں 50.97 فیصد اور جموں میں 45.89 فیصد جنگلات کا احاطہ ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں 4,861 مربع کلومیٹر پر محیط ایک ‘محفوظ علاقہ نیٹ ورک’ بھی نوٹیفائی کیا گیا ہے، جس میں چار نیشنل پارک، 14 وائلڈ لائف سنکچری اور 30 کنزرویشن ریزرو شامل ہیں۔ ان کا مقصد جنگلی حیات کی اہم اقسام اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کرنا ہے۔
0
