0

جموں و کشمیر میں 500 میگاواٹ پن بجلی توسیعی منصوبوں کا معاہدہ ملکیت کے تنازع کے درمیان این ایچ پی سیاور ’ایس پی ڈی سی ایل‘میں اہم پیش رفت

سرینگر//30مارچ/ ریاستی ملکیت والی جموں کشمیر سٹیٹ پاﺅر ڈیولپمنٹ کاروریشن(جے کے ایس پی ڈی سی ایل) اور این ایچ پی سی کے درمیان جموں و کشمیر میں 500 میگاواٹ کے دو بڑے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کے لیے ایک اہم عمل درآمدی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پن بجلی منصوبوں کی ملکیت اور کنٹرول کے حوالے سے سیاسی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔یہ معاہدہ جموں میں باضابطہ طور پر دستخط کیا گیا، جس میں 240 میگاواٹ کے یوری-I اسٹیج-II اور 260 میگاواٹ کے دولہستی اسٹیج-II منصوبے شامل ہیں۔ دونوں منصوبے این ایچ پی سی لمیٹیڈکی جانب سے’بلڈ، اون، آپریٹ، ٹرانسفر‘ ماڈل کے تحت مکمل کیے جائیں گے، جس کے مطابق کمپنی انہیں تعمیر کرے گی، 40 سال تک چلائے گی، اور بعد ازاں جموں و کشمیر حکومت کے حوالے کرے گی۔معاہدے پر جے کے ایس پی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر راہل یادو اور این ایچ پی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیش گوراہا نے دستخط کیے، جبکہ اس موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ این ایچ پی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر بھوپیندر گپتا نے اس معاہدے کو خطے میں پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بھارت کے صاف توانائی اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔یو این ایس کے مطابق یوری-I اسٹیج-II منصوبہ دریائے جہلم پر ضلع بارہمولہ میں موجودہ یوری-I پاور پلانٹ کی توسیع کے طور پر قائم کیا جائے گا، جس سے سالانہ تقریباً 932.60 ملین یونٹس بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔اسی طرح دولہستی اسٹیج-II منصوبہ ضلع کشتواڑ میں واقع موجودہ دولہستی ہائیڈرو پاور اسٹیشن (390 میگاواٹ) کی توسیع ہوگا، جو 2007 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے دوسرے مرحلے سے سالانہ تقریباً 1,093.11 ملین یونٹس بجلی پیدا ہونے کا تخمینہ ہے۔حکام کے مطابق دونوں منصوبے اپنے پہلے مرحلے کے انفراسٹرکچر اور پانی کے بہاو ¿ پر انحصار کریں گے، جس سے لاگت اور تعمیراتی وقت میں کمی آئے گی۔’این ایچ پی سی‘گزشتہ دو دہائیوں سے جموں و کشمیر میں سرگرم عمل ہے اور اس وقت خطے میں چھ بڑے پن بجلی منصوبے چلا رہی ہے، جن میں سالال (690 میگاواٹ)، یوری-I (480 میگاواٹ)، دولہستی (390 میگاواٹ)، سیوا-II (120 میگاواٹ)، یوری-II (240 میگاواٹ) اور کشن گنگا (330 میگاواٹ) شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2,250 میگاواٹ ہے۔اس کے علاوہ دو بڑے منصوبے رتلے (850 میگاواٹ) اور پاکل دل (1000 میگاواٹ)—بھی این ایچ پی سی لمیٹیڈاور جے کے ایس پی ڈی سی ایل کے اشتراک سے زیر تعمیر ہیں۔موجودہ معاہدوں کے تحت جموں و کشمیر کو این ایچ پی سی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کا 12 فیصد سے زائد حصہ مفت فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ باقی بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یونین ٹیریٹری کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی بجلی مارکیٹ سے خریدنی پڑتی ہے۔یہ معاہدہ ایک حساس سیاسی ماحول میں طے پایا ہے، جہاں پن بجلی منصوبوں کی ملکیت کا مسئلہ دوبارہ زیر بحث ہے۔ سجاد شاہین نے اسمبلی میں ایک نجی قرارداد پیش کی ہے جس میں این ایچ پی سی کے زیر انتظام منصوبوں کو مرحلہ وار جموں و کشمیر حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ مطالبہ کوئی نیا نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں اور ماہرین کی جانب سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منوہن سنگھ کے دور میں قائم ایک ورکنگ گروپ نے بھی بعض منصوبوں، بشمول دولہستی، کو ریاست کے حوالے کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم اب تک اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب مرکز حکومت نے اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد سندھ آبی طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد خطے میں پن بجلی کی صلاحیت کو تیزی سے بروئے کار لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جو محکمہ بجلی کے بھی انچارج ہیں، کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 18,000 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس میں سے 15,000 میگاواٹ کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اس وقت تقریباً 3,540 میگاواٹ صلاحیت ہی استعمال میں لائی گئی ہے۔حکومت نے 2035 تک اس صلاحیت کو بڑھا کر 11,000 میگاواٹ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاکہ توانائی کے شعبے کو خطے کی معیشت کا ایک اہم ستون بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق 500 میگاواٹ کے ان نئے منصوبوں سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ گرڈ کے استحکام میں بہتری آئے گی اور بھارت کے قابل تجدید توانائی کے اہداف کو بھی تقویت ملے گی۔ تاہم، ان تمام پیش رفتوں کے باوجود پن بجلی منصوبوں کی ملکیت اور کنٹرول سے متعلق جاری بحث خطے کی سیاست اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں