سرینگر،26 مارچ (یو این آئی ) جموں و کشمیر کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے ‘چناب’ اور ‘پیر پنجال’ کے نام سے دو نئے انتظامی ڈویژن بنانے کے لیے ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا گیا۔ اس تجویز پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے عوامی توجہ حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ قرار دیا ہے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پارہ نے “جموں و کشمیر علاقائی انتظامی تنظیمِ نو بل، 2026” کے عنوان سے یہ نجی رکن بل پیش کیا ہے۔ اس بل میں ریاست میں 16 نئے اضلاع قائم کرنے اور جموں خطے میں دو اضافی ڈویژن بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تجویز کے مطابق چناب ڈویژن کا ہیڈکوارٹر ڈوڈہ جبکہ پیر پنجال ڈویژن کا ہیڈکوارٹر راجوری میں قائم کیا جائے گا۔فی الوقت جموں و کشمیر میں صرف دو ہی انتظامی ڈویژن (جموں اور کشمیر) موجود ہیں۔
نیشنل کانفرنس پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اسے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اسمبلی کو “سوشل میڈیا اسٹیج” کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بل پاس کرانے کے لیے 46 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، جو پی ڈی پی کے پاس نہیں ہے۔ مزید برآں، یہ بل فہرست میں 58 ویں نمبر پر ہے، جس پر 2028 سے پہلے بحث کا امکان بھی کم ہے۔
بی جے پی لیڈر الطاف ٹھاکر نے پی ڈی پی کو مشورہ دیا کہ وہ خیالی منصوبوں کے بجائے ڈیلی ویجرز جیسے حقیقی عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ انہوں نے اسے خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ سیشن 27 مارچ سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جس میں 70 سے زائد بل پیش ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 40 برسوں میں صرف تین پرائیویٹ ممبر بل ہی قانون بن سکے ہیں، جس کی وجہ سے پی ڈی پی کے اس بل کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
