سری نگر،3 اکتوبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی حیثیت کی حامل اور روحانی مرکز در گاہ حضرت بل حالیہ زیبائش و آرائش کے بعد نہ صرف زائرین بلکہ سیاحوں کے لئے بھی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔
جموں و کشمیر وقف بورڈ کی طرف سے تجدیدی کاموں کے مکمل ہونے کے بعد درگاہ میں زائرین اور سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس تاریخی اور روحانی مقام کی اہمیت اور کشش کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
حالیہ تجدید و آرائش کے دوران درگاہ کی داخلی و خارجی تزئین نو کی گئی، جس میں جدید لائٹنگ، اور زائرین کے لیے جدید سہولتیں شامل ہیں۔ انتظامیہ نے یہاں جدید وضو خانے، بیٹھنے کے انتظامات، اور سکیورٹی کے اقدامات بھی متعارف کروائے تاکہ ہر زائر یا سیاح سکون اور آرام کے ساتھ عبادت یا سیاحت کر سکے۔
زائرین نے درگاہ کی تزئین نو کو نہایت خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے روحانی سکون میں اضافہ ہوا ہے۔
جب زائرین درگاہ حضرت بل کے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہر قدم کے ساتھ دل کو راحت اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ داخلی راستوں اور اندر کی تزئین و آرائش اتنی نفاست اور مہارت سے کی گئی ہے کہ اس کی مثال کم ہی کہیں ملتی ہے۔
زائرین کا کہنا ہے کہ درگاہ کے اندرونی حصے کی کاریگری واقعی اپنی مثال آپ ہے۔ چھتوں پر بنائے گئے نقش و نگار، دیواروں کی نفیس پتھروں سے تراش خراش، اور لکڑی پر کی گئی باریک کاریگری نہ صرف قدیم کشمیری فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے بلکہ جدید روشنیوں کے ساتھ اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی ہے۔ ہر ستون، ہر محراب، اور ہر گوشہ ایک داستان سناتا ہے، جو آنے والے کو ماضی کی یاد دلاتا ہے اور موجودہ لمحے میں سکون بخشتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کاریگری اتنی منفرد اور بے مثال ہے کہ اسے دیکھ کر ہر زائر یا سیاح حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ درگاہ کے اندر روشنی کی ترتیب، رنگوں کا امتزاج، اور فرش کی صفائی، سب مل کر ایک ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جہاں عبادت کے دوران روحانی سکون اور ذہنی سکون دونوں ایک ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
زائرین کا کہنا ہے کہ درگاہ میں داخل ہوتے ہی ایک سکون اور خوشگوار احساس دل و دماغ پر چھا جاتا ہے، اور اندر موجود ہر عنصر، چاہے وہ چھوٹے نقش ہوں یا بڑی دیواریں، اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں کی تزئین و آرائش واقعی نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے قابلِ تحسین ہے بلکہ روحانی تجربے کو بھی بڑھا دیتی ہے، جو کم ہی کسی دوسرے روحانی مقام میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع نے یو این آئی کو بتایا کہ درگاہ حضرت بل کی زیبائش واقعی شاندار ہے۔ یہاں آ کر دل کو سکون ملتا ہے اور روحانی توانائی محسوس ہوتی ہے۔ انتظامات بہت بہتر ہیں اور زائرین کے لیے سہولتیں قابل تحسین ہیں۔ اب اندر کا ماحول نہایت پرامن اور سکون بخش ہے، جو ہر آنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
بڈگام سے تعلق رکھنے والی خاتون عائشہ فاروق نے کہا :’ہم یہاں اکثر آتے ہیں، لیکن تجدید کے بعد درگاہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جدید لائٹنگ اور صاف ستھرا ماحول عبادت کو مزید خوشگوار بنا دیتا ہے۔ یہاں آ کر دل اور دماغ دونوں پرسکون ہو جاتے ہیں’۔
سیاحوں نے بھی درگاہ کی تزئین نو کو سراہا اور کہا کہ یہ جگہ نہ صرف روحانی بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی قابلِ توجہ ہے۔
دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نیہا نے کہا: ‘ یہ میری پہلی بار کشمیر آمد ہے اور میں نے درگاہ حضرت بل دیکھی۔ یہاں کا داخلی اور بیرونی ماحول دل کو بھا گیا۔ تجدید کے بعد یہ جگہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت اور آرام دہ ہو گئی ہے۔ میں یہاں کی تصویریں لے کر اپنے لوگوں کو بھی دکھاؤں گی’۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تجدیدی کام کے دوران نہ صرف تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھا گیا بلکہ جدید دور کے تقاضے بھی پورے کیے گئے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ درگاہ کی تزئین نو کے بعد یہاں آنا ایک نیا تجربہ ہے۔ داخلی ماحول میں سکون اور بیرونی حصہ کی خوبصورتی دیکھ کر ہر آنے والا متاثر ہوتا ہے۔ زائرین اور سیاح دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ درگاہ حضرت بل روحانی سکون اور تاریخی یادوں کا حسین امتزاج ہے، جو کشمیری ثقافت کا اہم جزو ہے۔
ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ یہاں غیر مقامی سیاح بھی آنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ روز پہلے یہاں ایک غیر ملکی وفد آیا جس کے ارکان درگاہ حضرت بل کی خوبصورتی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
0
