0

سال نامہ: رنگ بدلتی دنیا کا منظر نامہ: 2025میں

نئی دہلی، 29 دسمبر (یو این آئی) گزشتہ سال کی طرح یہ سال بھی زبردست اتھل پتھل سے بھرا، جنگ وامن اور زبردست تبدیلیوں کا محور رہاجہاں اس سال امریکی صدر ٹرمپ ایک میعاد کے وقفے کے بعد امریکہ کے سیاہ و سفید کے مالک بنے وہیں دو سال سے زائد جاری غزہ جنگ،جنگ بندی پر منتج ہوئی گرچہ روس یوکرین جنگ جاری ہے لیکن امن منصوبے کی طرف معاملہ آگے بڑھ رہا ہے لیکن تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپ جاری ہے۔ سوڈان اور نائجیریا میں خانہ جنگی جاری ہے لیکن اس سال کے بڑے واقعات میں 12 سال سے جاری شام کی جنگ بند ہوگئی اور بعث پارٹی کے حکمراں بشار الاسد کو ملک چھوڑ کر روس راہ فرار اختیار کرنا پڑی اور قطر کا کردار ایک مصالحت کار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

اکتوبر 2023سے جاری غزہ اور اسرائیل جنگ امریکہ، قطر، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی میں جنگ بندی پر ختم ہوگئی لیکن اس جنگ میں تقریبا 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جن میں سے بہت سے فلسطینیوں کی لاشیں ملبے میں دفن ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ جدید دنیا کی سب سے سفاک جنگ جس میں اسرائیل نے تمام شیطانی رنگ دکھائے۔ اسرائیل نے اس وحشتناک جنگ میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا،کم و بیش تمام ہسپتالوں پر بمباری کی گئی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کوملیامیٹ کردیا گیا۔ فلسطین اور غزہ میں انسان اور انسانیت کے جتنے ذرائع تھے انہیں امریکی اور یوروپی ہتھیاروں سے تباہ و بربادکردیا گیا۔ زراعت کو اجاڑدیا گیا۔ آبی وسائل کہ نیست نابود کردیا۔ غرضیکہ انسانی زندگی کے جتنے بھی وسائل ہوسکتے تھے انہیں اسرائیل نے تباہ و برباد کردیا۔ اس جنگ کا سب سے انسانیت سوز پہلو یہ تھا اس میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ اس جنگ میں حماس کی اعلی قیادت کو قتل کردیا گیا۔ اس جنگ اور فلسطینیوں کی قربانی کا مثبت پہلو یہ رہا تھا اس کے خلاف پوری دنیا میں آوازیں اٹھیں۔ اسرائیل سمیت، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، اسٹریلیا، اسپین، روس،نیوزی لینڈ، کناڈا، چین، پاکستان،ایران اور چند ممالک کو چھوڑ کرپوری دنیا میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں نسل کشی کے خلاف زبردست آواز اٹھی۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایسے احتجاج میں بھرپور حصہ لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یونیورسٹی کے فنڈ روک لینے اور مختلف پابندیوں کے باوجود ہارورڈ یونیورسٹی سمیت دنیا کی بیشتر یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔ مختلف ممالک میں ہونے والے زبردست احتجاج اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کے باوجود دنیا کے بیشتر ممالک نے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔

فلسطین میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور جنگ بندی کے بعد اب تک تقریباً ایک ہزار فلسطینی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ سال نو کے موقع پر جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔اسرائیل غزہ جنگ کے دوران حماس کو بھاری قیمت چکانی پڑی اور اس کے ٹاپ کمانڈر اور سربراہ یحیی سنوار اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔

اس سال دوسراہم واقعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری ہے۔حلف لیتے ہوئے انہوں نے پوری دنیا میں ہلچل مچانی شروع کردی۔ ‘فرسٹ امریکہ اگین’ کے نعرے کے ساتھ انہوں نے مختلف ممالک پر دھونس جمانی شروع کیں اور اس کیلئے انہوں نے ٹیرف کو اپنا اہم ہتھیار بنایا۔ دنیا کے بیشتر ممالک پر اپنی منشا کے مطابق ٹیرف لگانا شروع کردیا۔چین، کناڈا اور برازیل کے ساتھ تجارتی اختلافات بھی ہوئے۔ بالآخر کئی مرحلے کی بات چیت کے بعد ان ممالک کے ساتھ تجارتی ٹیرف کا مسئلہ حل کرنے میں ٹرمپ کامیاب رہے۔ اسی ٹیرف کے ضمن میں ٹرمپ نے ہندوستان پر 50 فیصدٹیرف کا بوجھ ڈال دیا۔ انہوں نے روس سے ہندوستان کے تیل خریدنے پر اعتراض کیا اور تیل کی خریدای سے مکمل دستبرداری کا مطالبہ کیا اور پہلے 25فیصد اور پھر 50فیصد ٹیرف عائد کردیا۔ اسی کے ساتھ ٹرمپ نے سات ملکوں کے درمیان جنگ بند کرانے کا دعوی کیا جس میں ہندوستان اور پاکستان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 40 بار سے زائد ہند پاک جنگ رکوانے کا دعوی کیا ہے اور اس کا اعادہ اب بھی جاری ہے۔اسی طرح ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے پر آمادہ نظر آئے۔ گرچہ انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل کے لئے نہیں بلکہ امریکی قومی سلامتی کے لئے وہ امریکہ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ مزید براں وینزوئیلا کے ساتھ امریکہ کے شدید اختلافات ابھرکر سامنے آئے اور امریکہ نے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے نام پر کئی حملے کئے جن میں تقریباً سو کے قریب لوگ مارے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ کئی مواقع پر امریکہ نے وینزوئیلا کے خلاف کارروائی کا اشارہ بھی دیا ہے۔

اس سال ایک اور اہم واقعہ میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر حادثے جاں بحق ہوگئے۔ اس ہیلی کاپٹر حادثہ کے پس پشت سازش کی سوئی اسرائیل کی طرف گھومتی نظر آئی۔ اس کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں مسعود پزشکیان صدر منتخب ہوئے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان12 دن کی جنگ ہوئی جس میں اسرائیل کا بہت سا حصہ کھنڈر نظر آیا اور اس جنگ میں ایران کے آرمی چیف اور پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت ایران کے ٹاپ جنرل مارے گئے۔اس سے اسرائیل کے متعلق پوری دنیا کی غلط فہمی دور ہوگئی کہ اسرائیل ناقابل تسخیر ہے۔ ایران کی میزائلوں نے اسرائیل کے ہر علاقے کو نشانہ بنایا خواہ فوجی تنصیبات ہوں یا نیوکلیائی مقامات لیکن اسرائیل کے آئرن ڈوم ایرانی میزائل کو روکنے میں ناکام رہے۔ ایران پر حملے کے اخیر میں امریکہ بھی شامل ہوا اور امریکہ نے ایران کے متعدد نیوکلیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایران نے قطرمیں واقع امریکی ایربیس پر حملہ کیا۔

اس سال کے ایک اور اہم واقعے میں اسرائیل کے دردسر بننے والے لیڈر اور لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید نصراللہ اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔یہ حزب اللہ کے لئے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ جس کے بعد حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے میں کمی واقع ہوگئی۔اسی کے ساتھ لبنان میں پیجر حملے میں درجنوں لبنانی عوام جاں بحق ہوئے یہ پیجر حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔ یمن کے حوثی نے بھی اسرائیل غزہ جنگ میں شامل ہوتے ہوئے اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور بحر احمر سے گزرنے والے امریکہ اور اسرائیل کے جہاز پر حملے شروع کردئے۔ متعدد دھمکیوں اور امریکہ کے حملوں کے بعد بھی حوثیوں کے حملے جاری رہے اور بالآْخر امریکہ کو حوثیوں کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنی جان چھڑانی پڑی۔ اسرائیل نے حملہ کرکے یمن میں حوثی حکومت کے وزیر اعظم کو کابینہ کے متعدد ارکان کے ساتھ مار ڈالا۔یہ حوثیوں کے لئے بہت بڑا جھٹکا ثابت ہوا لیکن اس کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔

اسرائیل نے قطر کی ثالثی کے دوران دوحہ میں حماس کے اہلکار پر حملہ کیا جس میں حماس کے اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔یہ حملہ اسرائیل نے ایسے وقت میں کیا تھا جب جنگ بندی کے سلسلے میں مذاکرات آخری مرحلے تھے۔ جس کے لئے اسرائیل کو قطر سے معافی مانگی پڑی۔

آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے موقع پر ایک دہشت گردانہ حملے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے اور40 کے قریب زخمی ہوئے۔ اس حملے کا ملزم ساجد اکرم ہلاک اور دوسرا نوید اکرم زخمی ہوگیا اور اس پر عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی گئی۔ اس واقعہ میں الاحمد ہیرو بن کر ابھرے جواپنی جان کی پراو کئے بغیر حملہ پر آور پرٹوٹ پڑے اور ان سے ہتھیار چھین کردرجنوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ اس ہیرو کی دنیا میں بھر تعریف ہوئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے ان کے جرات مندانہ قدم کو سراہا۔آسٹریلیائی عوام نے اس ہیرو کی بہادری سے متاثر ہوکر لاکھوں ڈالر کے انعام سے نوازا۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمر پوتن اور یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی کے درمیان جنگ بندی اور مستقل قیام امن پر بات چیت جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کی روپ ریکھا تیار کی ہے،جس میں زیلنسکی سے مشورہ نہیں لیا گیا اور ان کو یہ منصوبہ سپرد کردیا گیااور اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے مختلف حربے اپنائے جارہے ہیں۔ زیلنسکی نے اپنی شرائط شامل کرنے کے لئے یوروپی ممالک کا مسلسل دورہ کیا۔20نکاتی منصوبوں میں روسی مقبوضہ علاقہ سے یوکرینی دستبرادری سمیت یوکرین کی ناٹو میں شمولیت سے توبہ بھی شامل ہے۔

اس سال کے اہم واقعات میں اپریل میں جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی علاقہ پہلگام کی وادی بیسرن میں سیاحوں پر حملہ بھی ہے جس کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑگئی تھی دونوں نے ایک دوسرے پر ڈرون، میزائل اور طیاروں سے حملہ کیا تھا۔ ہندوستان نے اس آپریشن کا نام ‘سندور’ رکھا تھا جب کہ پاکستان نے اپنے آپریشن کا نام ‘بنیان المرصوص’رکھا تھا۔ اسی کے بارے میں ڈونالڈ ٹرمپ بار بار جنگ بندی کرانے کا دعوی کرتے رہے ہیں۔

اس سال پیش آنے والے اہم واقعات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپ بھی ہے جس میں دونوں طرف سیکورٹی فورسز ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی وجہ سے پاک افغان سرحدیں بند رہیں جس کے سبب افغانستان میں اشیاء ضروریہ کا بحران پیدا ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو جبراً افغانستان بھیج دیا گیا۔

عالمی طاقتوں، امریکہ، چین، روس، فرانس اور یوروپ کے کئی ممالک کے درمیان سفارتی کشمکش جاری رہی۔ اسی کے ساتھ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کاراباخ معاملے میں معاہد ہ ہوا۔

بین الاقوامی واقعات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کا دورہ بھی شامل ہے جس میں تقریباً 500 ارب ڈالر کا معاہد ہ ہوا۔ ڈونالڈٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ قطر اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دروان صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے علاوہ قطر اور متحدہ عرب امارات سے اربوں ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔

اس سال کے اہم واقعات میں فلپائن، ہندوستانی پنجاب اور پاکستانی پنجاب اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں تباہ کن سیلاب بھی ہے اس کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی سیلاب کی تباہ کاریاں جاری رہیں۔ جس کی وجہ سے جان و مان کا زبردست نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات میں امریکی ریاست کیلی فورنیا کے لاس اینجلس میں لگنے والی تباہ کن آگ بھی ہے جو ہالی ووڈ ستاروں کا مسکن بھی ہے۔ بھیانک اور مہینوں تک لگنے والی آگ میں 30 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے تھے۔نقصان کا تخمینہ 250 سے 275 ارب ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔

چین نے 2025میں 80 سے زائد خلائی لانچز کر کے ریکارڈ بنایا اور قابل استعمال راکٹ ٹیسٹ کئے۔تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازعے کے سبب دونوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ وقفے کے بعد دوبارہ جھڑپ شروع ہوگئی۔ سوڈان اور نائجیریا میں نیم فوجی دستوں ا ور انتہا پسند گروپوں کے ہاتھوں عام لوگوں کا قتل عام جاری ہے۔ نائجیریا میں داعش کو نشانہ بنانے کا امریکہ نے بھی دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے داعش کے ٹھکانے کو تباہ کردیا۔ اس کے علاوہ فرانس میں بھی اتھل پتھل رہا اور بجٹ کے نتیجے میں احتجاج کی وجہ سے وزیراعظم کو استعفی دینا پڑا۔بنگلہ دیش طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے سبب ایک بار پھر خلفشار میں مبتلاہوا۔

اس کے علاوہ بھی دنیا کے متعدد ممالک میں چھوٹے موٹے واقعات پیش آئے ہیں لیکن سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات ثالث کے کردار میں نظر آئے۔ جس کے سبب متعدد ممالک میں امن کی راہیں ہموار ہوئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں