جموں،31جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع سانبہ میں ہفتے کی صبح بین الاقوامی سرحد کے نزدیک ایک مشتبہ پاکستانی ڈرون کی نقل و حرکت کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے وسیع تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ڈرون چند منٹ تک چلیاری گاؤں کے اوپرہندوستانی حدود میں منڈلاتا رہا اور بعد میں واپس پاکستان کی جانب لوٹ گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے سرحدی علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ تقریباً چند منٹ تک ڈرون پرواز کرنے کے بعد سرحد پار کی سمت غائب ہوگیا۔ ڈرون کی موجودگی کو سرحدی دفاع کے لیے ایک سنگین خدشہ سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پچھلے کچھ برسوں میں ہتھیاروں، منشیات اور نقدی کی اسمگلنگ کے لیے سرحد پار سے ڈرونز کے استعمال کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، بی ایس ایف اور دیگر سیکورٹی فورسز نے چلیاری گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔ فورسز نے کھیتوں، ندی نالوں، رہائشی بستیوں اور خالی علاقوں کو بھی باریک بینی سے کھنگالا تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ ڈرون سے کوئی اسلحہ، ممنوعہ سامان یا منشیات گرائی تو نہیں گئی۔
ایک سکیورٹی افسر نے بتایا کہ تلاشی مہم کئی گھنٹوں تک جاری رہی، اور تمام حساس مقامات، کھیتوں کی مینڈھوں، زیرِ کاشت زمینوں اور ممکنہ ڈراپ زونز کی باقاعدہ جانچ کی گئی۔ ’ہم نے پورے علاقے کو سرچ گرڈ میں شامل کیا تاکہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی، کوئی لفافہ، پیکٹ یا پھینکا ہوا مواد برآمد کیا جا سکے۔‘
سکیورٹی حکام کے مطابق اب تک کسی قابلِ اعتراض مواد کی برآمدگی کی اطلاع نہیں ہے، تاہم تفتیشی ٹیمیں علاقے میں مزید سرویلنس اور تکنیکی جانچ کر رہی ہیں۔ بی ایس ایف کی ٹیموں نے ہائی ٹیک آلات، فلڈ لائٹس اور نائٹ ویژن گیئر کا استعمال کرتے ہوئے رات بھر گشت کا دائرہ بھی بڑھا دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایک روز قبل، یعنی جمعہ کی شام بھی رام گڑھ سیکٹر کے رتن پور گاؤں کے نزدیک ایک مشتبہ پاکستانی ڈرون کوہندوستان کی حدود میں چند لمحے تک پرواز کرتے دیکھا گیا تھا۔ اس سے یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ سرحد پار سے ڈرون سرگرمیوں میں پھر اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مقصد بارڈر سکیورٹی گرڈ کو چیلنج کرنا یا غیر قانونی آئٹمز کوہندوستان میں منتقل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند برسوں کے دوران پاکستانی ڈرون سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں زیادہ تر واقعات سانبہ، کٹھوعہ، ارنیہ اور رام گڑھ سیکٹرز میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ 2023 اور 2024 میں بی ایس ایف نے کئی ڈرون مار گرائے اور بڑی تعداد میں اسمگل شدہ اسلحہ، گرینیڈ، اے کے رائفلز اور ہیروئن جیسی منشیات برآمد کیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ علاقے کے رہائشیوں کو بھی چوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور انہیں کہا گیا ہے کہ کسی مشکوک پیکٹ، آواز یا روشنی کا احساس ہونے پر فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا بی ایس ایف کیمپ کو اطلاع دیں۔
ایک افسر نے بتایا، ’ڈرون سرگرمیاں دشمن کے ہتھکنڈوں میں سے ایک اہم عنصر ہیں اور ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی اور انسانی نگرانی دونوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہر مشاہدے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔‘
تلاشی کارروائی کے دوران گاؤں کے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ بی ایس ایف، پولیس اور اسپیشل آپریشن گروپ کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔
فورسز کے مطابق اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ سرحد پار تخریبی عناصر اب بھی سرگرم ہیں اور بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کو چیلنج کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس اور بی ایس ایف نے یقین دلایا ہے کہ بھرپور چوکسی اور سخت نگرانی سے ایسے خطرات کو ناکام بنایا جائے گا۔
واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ سیکورٹی فورسز نے علاقے میں سرحدی نگرانی اور نائٹ سرچ آپریشن میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
0
