سری نگر،7 جنوری(یو این آئی) کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے سائبر دھوکہ دہی اور دہشت گردی سے جڑے مالی نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے وادی بھر میں بیک وقت چھاپے مارے، جن کے دوران ’مُیول اکاؤنٹس‘ کے ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک آن لائن فراڈ، غیر قانونی بیٹنگ، گیمبلنگ، فیک انویسٹمنٹ ایپس اور دیگر سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی خطیر رقوم کو مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے چھپانے اور منتقل کرنے میں ملوث تھا۔
سی آئی کے نے مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن سی آئی کے سرینگر میں ایف آئی آر نمبر 06/2025 درج کی تھی، جس میں آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعات 66(سی)، 66(ڈی)، بھارتیہ نیایا سنہیتا 2023 کی متعدد دفعات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یواے پی اے) کی دفعہ 13 شامل ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک منظم سنڈیکیٹ کمزور اور غریب افراد کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس کو ’مُیول اکاؤنٹس‘ کے طور پر استعمال کرتا تھا، جن کے ذریعے غیر قانونی طور پر حاصل شدہ رقم بڑے گروہوں تک پہنچائی جاتی تھی۔
اِن اکاؤنٹس کے کئی اصل مالکان کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ ان کی شناخت اور بینک تفصیلات سنگین مالی جرائم میں استعمال ہو رہی ہیں۔ حکام کے مطابق فراڈ گروہ شناختی چوری، فرضی کاروباری رجسٹریشن، جعلی دستاویزات اور بینکاری ضوابط کی خلاف ورزیوں کے ذریعے نہ صرف رقم منتقل کرتے تھے بلکہ اس کے ذریعے اصل مجرموں کے سراغ کو بھی مؤثر طریقے سے چھپاتے تھے۔
سی آئی کے کے مطابق سائبر مجرم مختلف طریقوں سے عوام کو جال میں پھنساتے ہیں جن میں فون کالز، سوشل میڈیا اشتہارات، میسیجز اور جعلی لنکس شامل ہیں۔ یہ مجرم خود کو پولیس، بینک یا کسی سرکاری ادارے کا اہلکار ظاہر کرکے لوگوں سے رقم ’سیکیورٹی‘ یا ’ویریفکیشن‘ کے نام پر حاصل کرتے ہیں، جو بعد میں متعدد مُیول اکاؤنٹس کے ذریعے برق رفتاری سے منتقل کی جاتی ہے تاکہ اس کا سراغ نہ لگ سکے۔
فراڈ کی رقم کا عام راستہ یوں ہوتا ہے کہ پہلے مرحلے میں متاثرہ شخص کے اکاؤنٹ سے رقم نکالی جاتی ہے، جو فوری طور پر پہلے مُیول اکاؤنٹ میں بھیج دی جاتی ہے۔ اس کے بعد رقم مختلف اکاؤنٹس میں تقسیم ہوتی ہے، پھر کسی فرضی کمپنی، آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارم یا بوگس انوائس کے ذریعے اسے جائز دکھایا جاتا ہے، اور آخر میں یا تو کیش میں نکالی جاتی ہے یا کرپٹو کرنسی اور بیرونِ ملک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جاتی ہے۔
سی آئی کے نے عدالتی احکامات حاصل کرنے کے بعد سرینگر کے 17، بڈگام کے تین، جبکہ شوپیان اور کلگام میں ایک ایک مقام پر بیک وقت چھاپے مارے۔ اس کارروائی میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز اور متعدد اہم مالی دستاویزات ضبط کی گئیں جو نیٹ ورک کے اندرونی طریقہ کار کو سمجھنے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ تاحال 22 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سائبر جرائم اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ جو بھی افراد جان بوجھ کر یا نادانستگی میں اپنے بینک اکاؤنٹس کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے دیتے ہیں، انہیں سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بینک تفصیلات کسی سے شیئر نہ کریں، مشکوک پیغامات یا پیشکشوں کو نظرانداز کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں کیونکہ سائبر جرائم کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا نقصان کرتے ہیں۔ سی آئی کے نے یقین دلایا کہ وہ وادی سے ایسے جرائم پیشہ مالی نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔
0
