سری نگر ،30نومبر(یو این آئی) وادئ کشمیر شدید ترین سردی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجۂ حرارت کئی علاقوں میں نقطۂ انجماد سے کئی ڈگری نیچے جا چکا ہے۔ ایسے میں سری نگر کے تاریخی اور معروف سنڈے مارکیٹ میں آج معمول سے کہیں زیادہ رش اور گہماگہمی دیکھنے کو ملی، جہاں ہزاروں لوگ گرم ملبوسات اور دیگر سرمائی سامان کی خریداری کے لیے امڈ آئے۔
صبح سویرے سے ہی لالچوک، ریذیڈنسی روڈ اور ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ پر سینکڑوں اسٹال سج گئے۔ یوں تو سنڈے مارکیٹ ہر ہفتے اپنی سستی اور معیاری اشیاء کے لیے مشہور ہے، تاہم اس بار شدید ترین سردی کی لہر نے گرمی فراہم کرنے والی چیزوں کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
بازار میں مرد، خواتین، بزرگوں اور بچوں کا ایسا ہجوم دیکھنے کو ملا کہ کئی جگہوں پر ٹریفک پولیس کو بھیڑ کو منظم کرنے میں خاصی مشقت کرنا پڑی۔
بازار میں موجود دکانداروں کے مطابق رواں ہفتے سے خریداروں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ لالچوک کے ایک تاجر امتیاز احمد نے بتایا، ’سردی اچانک بڑھ گئی ہے۔ لوگ جیکٹ، فر شال، اون کے سوئٹر، دستانے، ٹوپیاں اور موزے بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔ آج کا دن پورے سیزن میں سب سے زیادہ مصروف رہا۔‘
سٹال لگانے والوں کا کہنا تھا کہ اس بار مقامی خریداروں کے ساتھ ساتھ ویک اینڈ پر وادی آنے والے سیاح بھی مارکیٹ میں بڑی تعداد میں پہنچے، جس سے فروخت میں مزید اضافہ ہوا۔
سنڈے مارکیٹ میں خریداری کے لیے آئی ایک خاتون نے بتایا کہ بچوں کے لیے گرم کپڑے لینے ضروری تھے۔ مارکیٹ میں دام دیگر جگہوں کے مقابلے میں مناسب ملتے ہیں، اسی لیے یہاں کا رخ کیا۔
ایک اور مقامی شہری نے کہا کہ شدید سردی کے باعث گھر سے نکلنا مشکل ضرور ہے، مگر ضروریات زندگی کی خریداری سے بچا نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں وادی میں مزید سردی کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹھنڈی ہوائیں شمالی علاقوں سے جاری ہیں، جن کے باعث رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے۔
کئی علاقوں میں سرد موسم کے باعث پانی کی سپلائی لائنیں منجمد ہوگئی ہیں، جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں سڑکوں پر پھسلن بھی بڑھ گئی ہے۔
ان حالات میں شہری گرم کپڑوں، برقی ہیٹرز اور کمبلوں کی خریداری میں مصروف نظر آ رہے ہیں، جبکہ سنڈے مارکیٹ اس حوالے سے سب سے بڑی سہولت ثابت ہو رہی ہے۔
کشمیر میں مہنگائی کے بڑھتے اثرات کے باوجود سنڈے مارکیٹ اپنے کم دام اور وسیع انتخاب کی وجہ سے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید سردی کے باوجود بھی شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے۔
بازار میں موجود افراد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی سردی کے پیش نظر مارکیٹ کے اطراف میں ٹریفک نظم و نسق، پارکنگ کی سہولت اور راہگیروں کے لیے گرم نوش و خوراک کے اسٹالوں کی بہتر دستیابی یقینی بنائی جائے۔
مجموعی طور پر، سخت ترین سردی نے جہاں اہالیانِ وادی کو مشکلات میں مبتلا کیا ہے، وہیں سری نگر کا سنڈے مارکیٹ ان کے لیے ایک ایسا مقام بنتا جا رہا ہے جہاں وہ کم قیمت میں سرمائی ضروریات پوری کر سکیں—اور یہی وجہ ہے کہ آج یہاں خریداروں کا اژدھام دیکھنے میں آیا۔
0
