جموں (عقاب نیوز ڈیسک): جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران کے خلاف جاری جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنے تعلقات استعمال کر کے اس جنگ کو روکنے کی کوشش کرنے کی اپیل کی۔ عمر عبداللہ نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہ ان کے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم سے ان دونوں ممالک کے ساتھ روابط کا استعمال کرکے ایران کے خلاف جاری جنگ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں کشمیر اسمبلی میں جمعہ کو اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ بخوبی واقف ہے کہ وزیر اعظم کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ اور ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ (ایران کے ساتھ )سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں اچھے تعلقات تھے جب وہ وزیر مملکت برائے خارجہ تھے۔
اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اپنے ارکان اسمبلی کی جانب سے اس جنگ کی مذمت کرتے ہیں اور ایران کے سابق سپریم لیڈر سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سمیت دیگر رہنماؤں کی ہلاکت پر تعزیت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ انسانیت کی بہتری کے لیے، مذہب سے بالاتر ہو کر اس جنگ کو ختم کرانے میں کردار ادا کریں۔
یہ بیان انہوں نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کی درخواست پر دیا، جنہوں نے وزیر اعلیٰ سے ایوان کی نمائندگی کرتے ہوئے بات کرنے کو کہا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے کہا کہ وہ پورے ایوان کی طرف سے بات نہیں کر سکتے کیونکہ اس معاملے پر سب کی رائے ایک جیسی نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اختلاف پیدا ہوگا۔
کئی این سی اراکین نے وزیر اعلیٰ سے بیان دینے کا مطالبہ کیا، تاہم بی جے پی کے رہنما شام لال شرما نے کہا کہ “یہ معاملہ اسمبلی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔” ایک اور بی جے پی ایم ایل اے رنبیر سنگھ پٹھانیہ نے بھی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اس معاملے پر نہ بات کر سکتی ہے اور نہ کوئی قرارداد منظور کر سکتی ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “جب جنگ شروع ہوئی تو ہمارے طلبہ ایران میں پھنس گئے تھے، اور اب اس کے اثرات یہاں ایندھن کی فراہمی پر بھی پڑ رہے ہیں، جو براہ راست ہم پر اثر انداز ہو رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “امریکہ کے صدر خود بھی واضح نہیں کہ یہ جنگ کیوں شروع کی گئی، صبح کچھ اور کہتے ہیں، دوپہر میں کچھ اور اور شام کو کچھ اور۔
