سری نگر، 16 جنوری (یو این آئی) کرائم برانچ کشمیر (سی بی کے) کے اقتصادی جرائم ونگ نے ایک مبینہ فرضی ایم بی بی ایس داخلہ سے متعلق ایک معاملے میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کرائم برانچ نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ420 اور 120 –بی کے تحت درج ایف آئی آر زیر نمبر 10/2024 میں دو ملزموں کے خلاف سب جج بارہمولہ کی عدالت میں ایک چارج شیٹ دائر کی ہے۔
ملزموں کی شناخت عاقب جاوید ولد محمد ایوب اور محمد احتشام ولد محمد ایوب ساکنان آدرش نگرگلبرگہ کرناٹک کے طور پر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا جس میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر شمس الدین نامی ایک شخص جو الامین میڈیکل کالج بیجا پور کرناٹک میں کام کرتا ہے، نے اس سے رابطہ کرکے اس کے بیٹے کا ایم بی بی ایس میں داخلہ ملزم محمد عاقب جاوید کے ذریعے کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
ان کا کہنا ہے: ‘اس یقین دہانی پر شکایت کنندہ کو 13 لاکھ روپیے ادا کرنے پر آمادہ کیا گیا تاہم نہ اس کے بیٹے کو کسی میڈیکل کالج میں داخلہ دیا گیا اور نہ ہی اس بہانے سے حاصل کی گئی رقم واپس کی گئی’۔
بیان میں کہا گیا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کرائم برانچ کشمیر کی جانب سے تفصیلی تفتیش شروع کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم عاقب جاوید نے اپنے بھائی محمد احتشام احمد کے ساتھ مجرمانہ سازش کے تحت شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا اور اس کے بیٹے کو کے بی این میڈیکل کالج بیجا پور میں داخلہ دلانے کا جھوٹا وعدہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ تفتیش سے ثابت ہوا کہ مذکورہ ملزموں کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعات 420 اور 120 – بی کے تحت قابل تعزیر جرائم بنتے ہیں جس کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ 520 کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزموں کی عدم موجودگی میں معزز عدالت کے سامنے چارج شیٹ پیش کر دی گئی۔
0
