0

مغربی ایشیا بحران: آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن کی حکومت کو حمایت

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پیش نظر منعقدہ آل پارٹی میٹنگ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان غیر معمولی اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا، جہاں تمام سیاسی جماعتوں نے مشکل حالات میں حکومت کے اقدامات کی حمایت کا یقین دلایا۔ مرکزی وزیر کیرن رجیجو نے بدھ کے روز بتایا کہ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے سنجیدگی اور پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپیل کی ہے کہ ایسے نازک وقت میں پارلیمنٹ کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ یہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران حکومت نے آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے چار تیل اور گیس کے جہاز محفوظ طریقے سے بھارت پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید پانچ آئل ٹینکرز جلد متوقع ہیں۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ایل پی جی کی مقامی پیداوار 28 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے توانائی کی فراہمی مستحکم ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں رول 190 کے تحت بحث کا مطالبہ کیا۔

جان برٹاس نے معاشی اثرات پر سوال اٹھایا، جس پر وزیر خارجہ جے شنکر نے وضاحت پیش کی۔ حکومت نے اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ بھارت تمام متعلقہ ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارتی سطح پر سرگرم ہے۔ وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت میں جنگ کے جلد خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں بتایا گیا کہ اگرچہ جنگ کے دورانیے کے بارے میں کوئی واضح اندازہ نہیں، تاہم بھارت ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ حکومت نے سات بااختیار گروپس بھی تشکیل دیے ہیں جو ایندھن، سپلائی چین اور کھاد جیسے شعبوں پر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں نے خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی پر بھی تشویش ظاہر کی، جس پر حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ بھارتی سفارت خانے مکمل طور پر متحرک ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انخلاء کے منصوبے تیار ہیں۔

تاہم ترنمول کانگریس نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، اور اس کے رہنما سوگتا رائے نے بی جے پی کے ساتھ اختلافات کو اس کی وجہ قرار دیا۔ مجموعی طور پر اجلاس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ موجودہ عالمی بحران کے دوران بھارت ایک متحد موقف اپنائے گا اور حکومت کے ہر فیصلے میں اپوزیشن اس کا ساتھ دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں