0

نیوزی لینڈ سے سیبوں کی درآمد: کشمیری صنعت کو نقصان سے بچایا جائے: نیشنل کانفرنس کی اپیل

سری نگر،25 دسمبر(یو این آئی) نیشنل کانفرنس نے حکومتِ ہند سے اپیل کی ہے کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے تحت سیبوں کی درآمد کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ کشمیری سیب صنعت کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں غیر ملکی سیبوں کی بڑے پیمانے پر درآمد سے کشمیری سیب کی مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی تھی، لہٰذا ضروری ہے کہ بیرونی سیبوں پر معقول ٹیکس عائد کیا جائے اور کسی بھی قسم کی ٹیکس چھوٹ نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا سیب نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ غذائیت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ معیار رکھتا ہے، جس کا مقابلہ کوئی بیرونی سیب نہیں کرسکتا۔ ترجمان نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ وادی میں رواں سیزن دوران موسم کی خرابی، قومی شاہراہ کی طویل بندش اور سیلابی صورتحال کے باعث سیب کی صنعت کو تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کے بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ کشمیر کی ایک بڑی آبادی براہِ راست سیب کی صنعت سے جڑی ہے، اس لیے حکومت کو ایسے کسی بھی فیصلے سے گریز کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں مقامی باغبانی سیکٹر مزید مشکلات کا شکار ہو۔
عدالتِ عالیہ کی جانب سے پی ڈی پی کی طرف سے دائر مفادِ عامہ عرضی،جس میں جموں و کشمیر کے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا—کو مسترد کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ جس روز یہ عرضی دائر کی گئی، ہم نے اسی وقت واضح کیا تھا کہ یہ محض سیاسی ڈرامہ اور پوائنٹ اسکورنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتِ عالیہ نے بھی اپنے فیصلے میں اس عرضی کو سیاسی نوعیت کا قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ عدالتیں انتخابی مہم کے لیے فورم کے طور پر استعمال نہیں کی جا سکتیں۔ ترجمان کے مطابق پی ڈی پی نے یہ عرضی اُس وقت دائر کی جب بڈگام میں الیکشن مہم جاری تھی، اور اس میں بنیادی دستاویزات کی کمی، ابہام اور غیر مصدقہ دعوے شامل تھے۔
عمران نبی ڈار کا کہنا تھا کہ کشمیری قیدیوں کی واپسی ایک حساس اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور اگر واقعی اس میں دلچسپی ہوتی تو پی ڈی پی کو چاہیے تھا کہ ٹھوس شواہد اور متعلقہ دستاویزات پر مبنی مضبوط عرضی دائر کرتی، نہ کہ اسے الیکشن کے دوران سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری قیدیوں کو ریاست سے باہر منتقل کرنے کا سلسلہ بھی پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید اور ان کے قریبی ساتھی مظفر حسین بیگ نے شروع کیا تھا، جس کا بوجھ آج بھی کشمیری خاندان اٹھا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں