سری نگر،14دسمبر(یو این آئی) وادیٔ کشمیر میں خلیفہ اول، امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق(رض) کا سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر وادی کے مختلف اضلاع میں مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں میں خصوصی دعائیہ محافل، ذکر و اذکار اور سیرتِ صدیقِ اکبر پر خطابات کا اہتمام کیا گیا، جن میں علمائے کرام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
عرس کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب درگاہ حضرت بل سری نگر میں منعقد ہوئی، جہاں صبح سے ہی عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا۔ اس موقع پر ہر نماز کے بعد موئے پاک(ص) کی زیارت کرائی گئی، جس سے ہزاروں زائرین نے فیض حاصل کیا۔ زائرین نے حضرت ابو بکر صدیق(رض) کے بلند مقام، اسلام کے لیے ان کی عظیم قربانیوں اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ملک و ملت کے امن و استحکام کے لیے دعائیں مانگیں۔
درگاہ حضرت بل کے احاطے میں عرس کے موقع پر خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق زائرین کی سہولت، سلامتی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اضافی عملہ تعینات کیا گیا تھا، جبکہ محکمۂ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے بھی الرٹ رہے۔ علماء و مشائخ نے اپنے خطابات میں حضرت ابو بکر صدیق(رض) کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدیقِ اکبر کی زندگی ایمان، تقویٰ، صبر اور وفاداری کا کامل نمونہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق(رض) نے رسول اکرم (ص) کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت سنبھال کر دینِ اسلام کو استحکام بخشا اور نازک حالات میں امت کو انتشار سے بچایا۔ مقررین نے موجودہ دور میں سیرتِ صدیق کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
