0

ٹرمپ کے کان کے پاس جو ’نشان‘ ہے اس کا ایران امریکہ اسرائیل جنگ سے کیا تعلق ہے؟

واشنگٹن، 21 مارچ (یو این آئی) مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی ایک سوال بن کر رہ گئی ہے جس کیلیے مختلف مذہبی اور تاریخی حوالے دیے جارہے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا ٹرمپ کے کان پر نشان سیاسی، مذہبی یا شیطانی کھیل کا حصہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دنیا بھر میں مختلف قیاس آرائیاں اور نظریاتی بحثیں شدت اختیار کرتی جارہی ہیں، جن میں بعض حلقے اسے محض سیاسی تنازع کے بجائے مذہبی یا تاریخی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سیاست میں ہونے والے بعض بڑے فیصلوں کو کچھ حلقے صدیوں پرانی مذہبی اور تاریخی روایات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں حالیہ دنوں سوشل میڈیا اور بعض مغربی مباحثوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ آیا ٹرمپ کے اقدامات صرف سیاسی نوعیت کے ہیں یا ان کے پیچھے کوئی وسیع تر نظریاتی یا علامتی پس منظر بھی موجود ہے۔
اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ایران کے خلاف کشیدگی ایسے موقع پر بڑھی جب یہودی مذہبی تہوار پوریم قریب تھا۔
یہ تہوار تاریخی طور پر کتابِ ایسٹر میں بیان کردہ واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس میں ماضی میں ملکہ ایسٹر نے مبینہ طور پر یہودیوں کو موت کے ایک بڑے خطرے سے بچایا تھا۔
ماہرین کے مطابق پوریم سے قبل ادا کی جانے والی مذہبی روایت ’پراشات زاخور‘ میں ایک قدیم دشمن قوم “عمالیق” کا ذکر کیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ موجودہ سیاسی حالات سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت یا روایت موجود نہیں ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحث قدیم فارس کی سلطنت تک جا پہنچتی ہے، جہاں بادشاہ زیکسیز اوّل کے دور میں ایسٹر کا مشہور واقعہ پیش آیا۔
اسی طرح سائرس اعظم کو بھی یہودی روایت میں ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جنہوں نے بابل فتح کرنے کے بعد یہودیوں کو آزادی دلائی تھی۔
بعض مذہبی حلقوں میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ دنیا ایک نئے مسیحائی دور کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مسیح بن یوسف اور مسیح بن داؤد جیسے نظریات زیرِ بحث آتے ہیں۔
ان ہی تصورات کے پیش نظر کچھ مبصرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بعض پالیسیوں کو ان تصورات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، تاہم یہ آراء محدود حلقوں تک ہی ہیں۔
ٹرمپ کے قریبی حلقے خصوصاً ان کے داماد جیرڈ کشنر اور صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کے مذہبی پس منظر کو بھی اس بحث میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ اسرائیل سے متعلق ان کے فیصلے جیسے یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنا اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی بھی زیرِ گفتگو رہے ہیں۔
مزید برآں، 2024 میں ایک انتخابی جلسے کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ٹرمپ کے کان پر لگنے والے زخم کو بھی بعض حلقوں نے علامتی انداز میں تعبیر کرنے کی کوشش کی، تاہم سرکاری سطح پر اسے ایک سیکیورٹی واقعہ ہی قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے ٹھوس حقائق اور مستند معلومات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، جبکہ مذہبی یا علامتی تشریحات کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں