0

ڈل جھیل کے مکینوں کو بڑی راحت

سرینگر: ڈل جھیل کو صاف رکھنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے 1800 سے زائد خاندانوں کو سرینگر شہر کے مضافات سے منتقل کیا گیا تھا، مگر اب جموں و کشمیر حکومت نے بحالی کا یہ پروگرام روک کر ڈل جھیل کے اطراف اور اکناف میں رہائش پذر لوگوں کو ہٹائے بغیر ہی جھیل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے پاس ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے محکمے کا قلمدان بھی ہے ، نے پی ڈی پی کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 1808 خاندانوں کو بمنہ کے رکھ ارتھ ہاؤسنگ کالونی میں آباد کیا گیا اور ان کنبوں کو مفت پلاٹ اور مکمل معاوضہ دیا گیا۔

یہ بحالی پروگرام 2009 میں کانگریس حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا، جس کی قیادت منموہن سنگھ کر رہے تھے۔ اس منصوبے کے تحت ڈل جھیل کے نو ہزار رہائشیوں کو منتقل کرنے کا ہدف تھا تاہم یہ منصوبہ تنازعات کا شکار ہو گیا اور 2022 میں اینٹی کرپشن بیورو نے حوالہ سے ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔

ڈل کے زیادہ تر رہائشی اس منصوبے کے خلاف تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے ان کا روزگار متاثر ہوگا۔ کیونکہ وہ دہائیوں سے سیاحوں کے لیے شکارا چلانے اور ہاؤس بوٹس وغیرہ کے ساتھ منسلک رہ کر اپنے اور اہل و عیال کے لیے نان شبینہ کا انتظام کرتے آئےہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کے بعد اب بحالی کے پرانے منصوبے کی جگہ “ان سٹو کنزرویشن” ماڈل اپنایا گیا ہے۔ اس کے تحت جھیل کے اندر موجود بستیوں کو جھیل کے ماحولیاتی نظام کا حصہ مانا جائے گا اور انہیں “ایکو ہیملٹس” کے طور پر ترقی دی جائے گی، جبکہ چند ایسی بستیاں جہاں کچھ عمارتوں کو ہٹانا ضروری ہو، اس ماڈل میں شامل نہیں ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈل اور نگین جھیل کے لیے 212.38 کروڑ روپے کا ایک مربوط منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جو وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام کے تحت منظوری کے مرحلے میں ہے۔ اس کے علاوہ 21.29 کروڑ روپے کی لاگت سے چھ بستیوں میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کام جاری ہے۔

اگرچہ مقامی لوگوں نے اس نئے منصوبے کو قبول کر لیا ہے، مگر انہیں خدشہ ہے کہ اس کے نام پر جھیل میں ہوٹل اور دیگر عمارتیں بن سکتی ہیں، جس سے پانی کا معیار خراب ہوگا اور جھیل کا رقبہ بھی کم ہوسکتا ہے۔

ایک مقامی رہائشی طارق پتلو نے کہا کہ “مرمت اور بہتری تو قابل قبول ہے، مگر نئی تعمیرات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔” ایک اور رہائشی غلام رسول نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ “ایسے منصوبے اکثر شفاف طریقے سے نافذ نہیں ہوتے اور بدعنوانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں