سری نگر،2 مارچ (یو این آئی) جموں و کشمیر میں موسمِ سرما 2025-26 بھی بارش کی شدید کمی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس کے ساتھ ہی لگاتار ساتویں سال بھی وادی اور جموں کے بیشتر علاقوں میں موسمِ سرما معمول سے کہیں کم تر ثابت ہوا۔ دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک کی بنیادی سردی کے تین ماہ مجموعی طور پر 65 فی صد بارش کی کمی کے ساتھ ریکارڈ کیے گئے، جو حالیہ برسوں میں ایک تشویشناک رحجان کی واضح علامت ہے۔ تین ماہ کے دوران خطے کو صرف 100.6 ملی میٹر بارش نصیب ہوئی جبکہ اس عرصے کا معمول 284.9 ملی میٹر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 نہایت خشک رہا جس میں 78 فیصد کمی درج ہوئی جبکہ جنوری میں کچھ مغربی ہواوں کے سبب معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم اس ماہ میں بھی مجموعی بارشیں معمول سے 23 فی صد کم رہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال فروری 2026 میں سامنے آئی جس میں 89 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق فروری میں بارشوں کی اس شدید کمی نے پورے موسمِ سرما کے مجموعی اوسط کو گرا کر اسے گزشتہ کئی دہائیوں کے خشک ترین سیزن میں شامل کردیا ہے۔
2019 سال سے مسلسل ہر موسمِ سرما میں بارشیں معمول سے کم رہی ہیں۔ 2019-20 میں 20 فیصد کمی، 2020-21 میں 37 فی صد، 2022-23 میں 34 فی صد، 2023-24 میں 54 فی صد اور 2024-25 میں 45 فی صد کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ البتہ 2021-22 وہ واحد نسبتاً بہتر سال تھا جس میں کمی محض 8 فی صد رہی، جو تقریباً معمول کے قریب تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں سردیوں کی بارشیں تسلسل کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں، جو ماہرینِ آب و ہوا کے مطابق ایک نیا موسمی پیٹرن بنتا جارہا ہے۔
موسمِ سرما کی بارشوں کا براہِ راست تعلق برفباری سے ہے، جو کشمیر کی دریاوں، چشموں، زیرِ زمین پانی، زراعت اور باغبانی کے نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب بلند علاقوں میں برف کم گرتی ہے تو گرمیوں اور خزاں میں دریائی بہاؤ کم ہوجاتا ہے، زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے اور سیب و دیگر باغبانی شعبے متاثر ہوتے ہیں۔ برف کی کمی کے باعث گرمیوں کی ابتدا میں درجہ حرارت بھی معمول سے زیادہ رہنے لگتا ہے جس سے زرعی شعبہ مزید دباؤ میں آجاتا ہے۔
ضلع وار تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کشمیر کے بیشتر اضلاع میں کمی 60 سے 80 فی صد کے درمیان رہی۔ شوپیان میں 82 فیصد، کولگام میں 80 فی صد، بڈگام میں 71 فی صد جبکہ سری نگر میں 64 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ جموں ڈویژن کے بعض اضلاع، خصوصاً کشتواڑ میں 90 فی صد تک کمی دیکھی گئی، جو پورے خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر وادی اور جموں دونوں خطوں میں بارشوں کی کمی شدید رہی، جسے ماہرین لگاتار خشک سالی کے بحران کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواوں کے نظام میں کمی اور موسمی بے ترتیبی کی وجہ سے بارشوں کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے سبب بارشیں وقفے وقفے سے شدید ہوتی ہیں مگر مجموعی مقدار کم رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض حادثاتی یا ایک سال کا واقعہ نہیں بلکہ ایک جاری سلسلہ ہے جس پر سنجیدہ موسمیاتی اور زرعی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
محکمہ موسمیات کشمیر کی اس رپورٹ سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ سرمائی بارشوں کا کم ہونا اب غیر معمولی نہیں رہا بلکہ خطے کا نیا موسمی معمول بنتا جارہا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
0
