0

ہوکھ گاڈ ،تاریخ،پہچان، روزگار اور شناخت کے زوال کی داستان،صدیوں پرانی کشمیری خوراک کی روایت زوال کا شکار

سرینگر//28جنوری// یو این ایس دریائے جہلم اورجھیل ولر کے کنارروں پرسردیوں کی مدھم دھوپ جب کہر آلود فضا کو چیرتی ہوئی گھروں کے صحنوں تک پہنچتی ہے تو کہیں کہیں آج بھی لکڑی کے فریموں پر لٹکتی سوکھی مچھلی کی چند لڑیوں کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔ کبھی یہ منظر شمالی کشمیر کی ماہی گیر بستیوں میں سردیوں کی آمد کی علامت ہوتا تھا، مگر اب یہ روایت آہستہ آہستہ نظروں اور یادوں دونوں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سوکھی مچھلی “ہوکھ گاڈ” کہلاتی ہے۔ کشمیر کی ایک قدیم روایتی غذا، جو ماضی میں شدید سردیوں کے دوران بقا کا سہارا تھی، مگر آج جدید طرزِ زندگی، بدلتی خوراکی ترجیحات اور معاشی دباو ¿ کے باعث زوال کا شکار ہے۔یو این ایس کے مطابق لفظ ہوکھ گاڈ کشمیری زبان کے دو الفاظ، ہوکھ (خشک) اور گاڈ (مچھلی) سے نکلا ہے۔ یہ روایت اس دور کی یادگار ہے جب برف باری کے باعث دور دراز دیہات مہینوں تک دنیا سے کٹ جاتے تھے، سڑکیں بند رہتی تھیں اور تازہ خوراک نایاب ہو جاتی تھی۔ ایسے حالات میں محفوظ شدہ غذائیں جیسے ہوکھ گاڈ، شلجم، ہاخ اور دیگر خشک غذائیں ہی زندگی کا سہارا بنتی تھیں۔ بزرگ آج بھی اس زمانے کو یاد کرتے ہیں جب سردیوں کی تیاری ہوکھ گاڈ کی خوشبو سے پہچانی جاتی تھی۔ ان کے مطابق یہ صرف خوراک نہیں بلکہ موسم کی دستک اور اجتماعی زندگی کی علامت ہوا کرتی تھی۔ہوکھ گاڈ کی تیاری محض ایک گھریلو کام نہیں بلکہ ایک مکمل روایتی ہنر ہے۔ گرمیوں اور خزاں میں ہانجی برادری کے ماہی گیر وولر جھیل اور آس پاس کے آبی ذخائر سے مچھلی پکڑتے، اسے صاف کر کے ہلکا سا بھونتے اور پھر کپڑے میں لپیٹ کر کئی دنوں تک دھوپ میں سکھاتے تھے۔ اس عمل میں خاص مہارت درکار ہوتی ہے کیونکہ دھوپ، نمی اور ہوا کا توازن بگڑ جائے تو ساری مچھلی خراب ہو سکتی ہے۔ماہی گیروں کے مطابق یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا تھا، مگر اب سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔سردیوں میں یہ سوکھی مچھلی بھگو کر سرسوں کے تیل، لہسن، ٹماٹر، لال مرچ اور سونف کے ساتھ پکائی جاتی ہے جسے ہوکھ گاڈے کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ منفرد ضرور ہے، مگر یہی خوشبو آج نئی نسل کے لیے اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان جو پیزا، برگر اور فاسٹ فوڈ کے عادی ہو چکے ہیں، انہیں یہ کھانا پرانے وقتوں کی نشانی لگتا ہے۔ یہی تبدیلی ذائقے کی نہیں بلکہ طرزِ زندگی کی ہے، جو روایتی خوراک کو پیچھے چھوڑتی جا رہی ہے۔اس روایت کے زوال کی ایک بڑی وجہ معاشی اور ماحولیاتی تبدیلیاں بھی ہیں۔ وولر جھیل،جہلم،ڈل اور دیگر آبی ذخائر میں آلودگی، گاد بھراو ¿ اور ماحولیاتی بگاڑ کے باعث مچھلی کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماہی گیروںکے مطابق پہلے جھیل روزگار کا مضبوط ذریعہ تھی، مگر اب کئی دن خالی ہاتھ لوٹنا معمول بن چکا ہے۔ جب مچھلی کم ہو تو نہ صرف آمدنی متاثر ہوتی ہے بلکہ ہوکھ گاڈ جیسی روایات بھی ختم ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہی گیر اب پیشہ چھوڑ کر مزدوری، رکشہ چلانے یا دیگر کاموں کی طرف جا چکے ہیں، جس سے ایک پوری ثقافت کمزور پڑ رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوکھ گاڈ کا خاتمہ صرف خوراک کے ختم ہونے کا مسئلہ نہیں بلکہ ثقافتی ورثے اور اجتماعی یادداشت کے زوال کا اشارہ ہے۔ فوڈ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جدید سہولتوں سے پہلے کشمیری معاشرہ کس طرح خود کفیل تھا۔ اگر یہ علم اور ہنر ختم ہو گیا تو اسے دوبارہ زندہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لیے ثقافتی ورثے کی طرح غذائی روایات کا تحفظ بھی ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔اگرچہ یہ روایت اب آخری سانسیں لیتی محسوس ہوتی ہے، لیکن آج بھی چند گھرانے ایسے ہیں جو ہر سردی میں ہوکھ گاڈ تیار کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف خوراک نہیں بلکہ اپنی یادوں، اپنی شناخت اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے کا ذریعہ ہے۔ مدھم دھوپ میں لٹکتی سوکھی مچھلی کی وہ چند لڑیاں آج بھی خاموشی سے گواہی دیتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب یہی خوشبو کشمیر کی سردیوں کی پہچان ہوا کرتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں