0

آرٹیکل 370 اب تاریخ کا حصہ، بحالی ناممکن: سنیل شرما

سری نگر،21فروری(یو این آئی) جموں و کشمیر کی سیاست میں خصوصی حیثیت کا مسئلہ ایک بار پھر مرکزِ کی توجہ بن گیا ہے، جہاں لیڈر آف اپوزیشن اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو آئینی نکات سے دور رکھ کر سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ بی جے پی کے میگا جوائننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت سے صاف لفظوں میں پوچھا کہ آئینِ ہند میں ’خصوصی درجہ‘ کے حوالے سے وہ کون سی شق ہے جسے این سی عوام کے سامنے بڑے دعووں کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آرٹیکل 370 اب ماضی کی داستان ہے اور اس کی بحالی کی باتیں عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔
شرما نے مزید الزام لگایا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں این سی نے آرٹیکل 370 کی بحالی کو انتخابی نعرہ بنایا، مگر بعد میں خود اعتراف کیا کہ مرکزی سطح پر انہیں بی جے پی کی حمایت ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے تضادات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خصوصی حیثیت کا استعمال محض سیاسی ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی لیڈر نے این سی قیادت پر پالیسیوں میں دوہرا معیار اپنانے کا بھی الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایک طرف بی جے پی کو نشانہ بناتے ہیں اور دوسری جانب تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی ضرورتوں کے تحت دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا ہے۔
شرما نے روزگار، بجلی اور دیگر بنیادی مسائل کے حوالے سے حکومت کے وعدوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام اب براہ راست اسمبلی کارروائی دیکھ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے شفافیت اور جوابدہی کی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ آئینی معاملات، حکومتی فیصلوں اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات کو گاؤں گاؤں تک پہنچائیں، اور یقین دلایا کہ بی جے پی اسمبلی کے اندر بھی اور باہر بھی حکومت کا محاسبہ کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں