0

آپریشن تراشی۔ون نے دہشت گرد نیٹ ورک ہلا کر رکھ دیا:میجر جنرل اے پی بھل

جموں،23فروری(یو این آئی) میجر جنرل اے پی ایس بھل نے پیر کے روز کہا کہ کشتواڑ کے گھنے جنگلات میں کامیاب آپریشن صرف ایک گن فائٹ نہیں تھی—یہ مہینوں کی خفیہ محنت، باریک منصوبہ بندی، کڑی نگرانی اور بے مثال ہم آہنگی کا وہ مظہر تھی جس نے دہشت گردوں کا مضبوط نیٹ ورک لمحوں میں گرا دیا۔ اس آپریشن نے کشتواڑ کے گھنے جنگلات میں ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز کی مکمل برتری ثابت کر دی ہے۔
میجر جنرل بَھل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ کارروائی کئی ماہ کے مربوط تعاقب، مستحکم خفیہ معلومات، اور زمینی دستوں سے لے کر اعلیٰ سطحی کمانڈ تک مکمل ہم آہنگی کا نتیجہ تھی۔ ان کے مطابق فورسز نے انتہائی پرسکون، منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی، جس کی بدولت یہ سنگین نوعیت کی کارروائی بغیر کسی جانی نقصان کے انجام تک پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں حصہ لینے والے تمام جوانوں، پولیس افسران، سینئر قیادت، خفیہ اداروں اور آرمی کمانڈر تک سب نے ایک ٹیم کی طرح کردار ادا کیا، جو اس کامیابی کا سب سے طاقتور پہلو ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے دور دراز جنگلات میں مضبوط ٹھکانے قائم کیے تھے، جہاں ضرورت کی اشیاء، ذخیرہ شدہ خوراک اور تعمیراتی سامان بڑی مقدار میں پہنچایا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ سب ایسے سپورٹ سسٹم کی نشاندہی کرتا ہے جو دہشت گردوں کو طویل عرصے تک سرگرم رکھنے میں مددگار تھا۔ میجر جنرل بَھل نے صاف الفاظ میں بتایا کہ پولیس کے پاس اس نیٹ ورک سے متعلق تمام اہم معلومات موجود ہیں اور اس سلسلے میں مناسب کارروائیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی سیکیورٹی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم فوجی K9 یونٹ کا بہادر کتا ٹائسن کارروائی کے آغاز میں شہید ہوا، جس نے سب سے پہلے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کی۔ میجر جنرل بَھل نے ٹائسن کو ’اصل ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی قربانی نے پورے آپریشن کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا۔
میجر جنرل بَھل نے مزید بتایا کہ فروری کے مہینے میں فورسز نے جیشِ محمد کے چھ دہشت گردوں کو اودھمپور اور کشتواڑ کے علاقوں میں کامیاب کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی کارروائیاں رکنے والی نہیں اور جو بھی دہشت گرد یا سہولت کار اس خطے میں قدم رکھے گا، اسے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق آپریشن تراشی۔ون انتہائی مشکل جغرافیائی علاقے میں چلایا گیا، جہاں برف، گھنے جنگلات اور پہاڑی پناہ گاہوں نے کارروائی کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، زمینی سینسرز اور ہیٹ سگنیچر آلات کی مدد سے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کی تباہی کے بعد اس پورے جنگلاتی محور میں دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
میجر جنرل بَھل کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں اہم ہے بلکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گرد دور دراز پہاڑی علاقوں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں سہولت کاروں، سلیپر سیلز اور دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
آپریشن تراشی۔ون کی کامیابی نے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں اور خطے میں دہشت گردی کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کے لیے سخت ترین پیغام چھوڑا ہے کہ انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں