ایران سے جڑی پیش رفت پر سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا
سرینگر//2مارچ/ مرکزی وزارتِ داخلہ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ملک گیر سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق الرٹ میں ممکنہ تشدد اور وقفے وقفے سے احتجاجی سرگرمیوں کے خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ ایڈوائزری 28 فروری کو ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ برادری کی جانب سے ہونے والے احتجاجات کے تناظر میں جاری کی گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال بھارت کے اندرونی سلامتی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ریاستی حکومتوں کو ارسال کردہ مراسلے میں وزارت نے سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ رہنے اور ایران کے حق اور مخالفت میں سرگرم گروہوں کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی، امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں و قونصل خانوں سمیت دیگر سفارتی تنصیبات کے اطراف سیکیورٹی انتظامات مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ایڈوائزری میں ممکنہ خطرات کے طور پر شیعہ ملیشیاو ¿ں اور دہشت گرد تنظیموں جیسے اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کی جانب سے حالات کا فائدہ اٹھا کر بدامنی پھیلانے یا تخریبی کارروائیوں کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق سیاحتی مقامات، یہودی ادارے اور مغربی ممالک سے وابستہ تنصیبات کے ساتھ ساتھ سفارتی مشنز ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔مرکز نے ریاستوں کو حساس اور اہم مقامات پر سیکیورٹی نفری میں اضافہ کرنے، ہجوم والے علاقوں میں چیکنگ سخت کرنے اور آئی ای ڈیز سمیت دھماکہ خیز مواد کی کھوج کے لیے باقاعدہ تلاشی مہمات چلانے کی ہدایت دی ہے۔ ڈائریکٹر جنرلز آف پولیس کو فوری ردِعمل ٹیموں کی مکمل تیاری یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر فوری کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا کی سخت نگرانی پر بھی زور دیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد، غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاو ¿ کو روکا جا سکے جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ سائبر سیلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ آن لائن مواد پر کڑی نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کریں۔وزارت نے واضح کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور ریاستی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے کسی بھی ممکنہ بگاڑ کو روکنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔
