0

امریکہ میں اسلاموفوبیا کی ذمہ دار ٹرمپ انتظامیہ : امریکی سینیٹر

واشنگٹن، 14 جنوری (یو این آئی) امریکی سینیٹر مارک وارنر نے سینیٹ کے فلور پر خطاب میں کہا کہ امریکہ میں مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی انتہاپسندی میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کا الزام انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد کیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹر مارک وارنر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات اور پالیسیوں نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سینیٹ میں اس لیے کھڑے ہوئے تاکہ مذہبی امتیاز اور نفرت انگیز انتہاپسندی میں ہونے والے‘دل دہلا دینے والے اور غیر امریکی’اضافے کی مذمت کی جا سکے اور خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی جا سکے کہ کس طرح اس انتظامیہ نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف نفرت کو بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صدر اور ان کی انتظامیہ نے کھلے عام ایسے امتیازی رویوں کو فروغ دیا اور ادارہ جاتی شکل دی، جس کا نشانہ مسلم اور عرب نژاد امریکی کمیونٹیز بنیں۔
بطور مثال، مارک وارنر نے گزشتہ ماہ کابینہ کے ایک اجلاس میں صدر ٹرمپ کے تبصرے کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے صومالی نژاد افراد کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں‘کوڑا کرکٹ’قرار دیا اور کہا کہ‘ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔
وارنر نے ان ریمارکس کو‘گھناؤنا، انسانیت سوز اور غیر امریکی’قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کی تمام سرکاری عہدیداروں کو کھل کر اور بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔
سینیٹر وارنر نے کانگریس کے اندر بھی اشتعال انگیز زبان پر تنقید کی اور بتایا کہ حال ہی میں ایک نامعلوم سینیٹر نے اسلام کو‘زہریلا مذہب’اور‘مغربی اقدار سے بنیادی طور پر متصادم قرار دیا۔
اگر ٹیرف کے خلاف فیصلہ آیا تو سیکڑوں ارب ڈالر واپس کرنا پڑیں گے، صدر ٹرمپ نے خبردار کر دیا
ان کا کہنا تھا کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور اسلاموفوبیا اور عرب مخالف نفرت کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں