واشنگٹن، 17 فروری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو جنیوا میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات میں “بالواسطہ” طور پر شامل ہوں گے۔ انہوں نے تہران کو جون 2025 میں اس کی جوہری تنصیبات پر ہوئے بی-2 بمبار حملے کی یاد دلاتے ہوئے مذاکرات کے دوران “معقول” رویہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا اور یہ بہت اہم ہوں گے۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ “مجھے امید ہے کہ وہ (ایران) زیادہ معقول رویہ اختیار کریں گے۔”
آئندہ جنیوا اجلاس جوہری مذاکرات کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدارتی مشیر جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے۔
جب ایک معاہدے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے تاریخی طور پر سخت موقف اپنایا ہے لیکن گزشتہ موسم گرما میں اپنی جوہری تنصیبات پر ہوئے امریکی حملوں سے اس نے سبق سیکھا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران اب مذاکرات کی طرف زیادہ مائل ہے۔
جون میں امریکی حملوں سے پہلے ، واشنگٹن کے اس اصرار پر مذاکرات رک گئے تھے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے جو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کی طرف لے جا سکتا ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج چاہتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہوگا۔ ایران سخت مذاکرات کار ہے، لیکن میں کہوں گا کہ وہ اچھے مذاکرات کار نہیں، کیونکہ ہم بی 2 بمبار بھیجے بغیر بھی معاہدہ کر سکتے تھے جنہوں نے ان کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنایا۔ مجھے امید ہے کہ وہ زیادہ معقول رویہ اختیار کریں گے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں… مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔ آپ کو کہیں کہیں کشیدگی نظر آئے گی، لیکن مجموعی طور پر خطے میں امن ہے۔ یہ اس لیے ہوا کیونکہ ہم نے ان کی جوہری صلاحیت پر بی 2 حملہ کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ماہ کے اندر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہو سکتا تھا، اور پھر صورتحال بالکل مختلف ہوتی،”۔
یہ مذاکرات 6 فروری کو عمان میں ہونے والے ابتدائی بالواسطہ دور کے بعد ہو رہے ہیں، جس میں ایران نے یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر زور دیا تھا، جبکہ امریکہ نے میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادی گروپوں بشمول حزب اللہ پر وسیع تر بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اختلافات کے باوجود دونوں فریقوں نے پہلی ملاقات کو “اچھی شروعات” قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ صدر ٹرمپ سفارتی حل کے حامی ہیں اور انتظامیہ مذاکرات پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے ۔
