سری نگر،29دسمبر(یو این آئی)جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں دریائے جہلم سے برآمد ہوئی ایک قدیم مورتی کو مقامی پولیس نے محفوظ طریقے سے تحویل میں لے کر محکمہ آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز جموں و کشمیر کے حوالے کردیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ نوادرات صدیوں پرانی ہے اور خطے کی گہری تہذیبی تاریخ کی اہم علامت تصور کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق لارکی پورہ، اونتی پورہ میں دریائے جہلم کے کنارے یہ مورتی اس وقت ملی جب مقامی لوگوں نے غیر معمولی شکل کی ایک پتھر کی چیز دیکھ کر پولیس کو مطلع کیا۔ اطلاع ملتے ہی اونتی پورہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے محفوظ کر لیا اور ایس ایچ او اونتی پورہ کی نگرانی میں اسے کسی بھی نقصان یا غلط استعمال سے بچانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
بعد ازاں پولیس نے محکمہ آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے ماہرین سے رابطہ قائم کیا اور نوادرات کی سائنسی دستاویز بندی، جانچ اور تحفظ کے لیے اسے باقاعدہ طور پر ان کے سپرد کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس سنگ تراشی میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کشمیر کی قدیم تہذیب، فن اور مذہبی تاریخ سے جڑی نوادرات میں نظر آتی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جموں و کشمیر پولیس امن، قانون کی بالادستی اور علاقے کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے یکساں طور پر سرگرم ہے۔ پولیس نے مقامی عوام سے اپیل کی کہ اگر انہیں کہیں بھی قدیم نوادرات یا مشتبہ تاریخی اشیاء ملیں تو وہ فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ انہیں مناسب طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس قدیم مورتی کا تفصیلی معائنہ، اس کی عمر کے تعین اور تاریخی پس منظر کے بارے میں تحقیق محکمہ آثارِ قدیمہ کی ماہر ٹیم انجام دے گی، جس کے بعد اسے محفوظ طور پر ذخیرہ کیا جائے گا یا میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔
اونتی پورہ سے ملی اس تاریخی دریافت نے ایک بار پھر وادی کی تہذیبی شان اور ہزاروں سال پر محیط تاریخ کی جھلک کو اجاگر کیا ہے، جو آج بھی مختلف شکلوں میں زندہ ہے۔
0
