0

ایران-امریکہ: توقع سے طویل جنگ یا امن کی طرف پیش قدمی؟

نئی دہلی ،2مارچ (یواین آئی) ہفتے کے روز شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ، ان توقعات سے کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے، جس میں ایران کے دو اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد ایک مختصر اور فیصلہ کن حملے کی امید کی جا رہی تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی اقتدار کا ڈھانچہ مغرب کی توقعات سے کہیں زیادہ لچک اور مضبوطی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ہفتے سے شروع ہونے والے آپریشن میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں مربوط حملے کیے، جن میں فوجی انفراسٹرکچر، بحری اثاثوں اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے بھی فوری جواب دیتے ہوئے خلیج میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس میں تین امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے واشنگٹن کو مزید انتقامی کارروائی کے عہد پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ تنازع محض چند دن پرانا ہے، لیکن اس کا رخ پہلے ہی ایک طویل اور غیر متوقع جنگ کے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے۔

سابق وائس ایڈمرل شیکھر سنہا (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا: ’’ ایرانیوں کی مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان کے پاس اقتدار کا ایک غیر مرکزی نظام موجود ہے۔ تہران کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع ذخیرہ اور ایسی فوجی فیکٹریاں ہیں جو پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسے اشارے ملے ہیں کہ روس اور چین نے اپنی سپلائی لائنیں کھول دی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ جنگ بہت سے لوگوں کے اندازوں سے زیادہ طویل ہوگی۔‘‘

ماہرین کا اشارہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے واضح ’جنگی اہداف‘ کی کمی امن کی فوری بحالی میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ امریکیوں نے مسلسل اپنے مقاصد تبدیل کیے ہیں—ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے سے لے کر تہران کے میزائل پروگرام کو بے اثر کرنے اور پھر حکومت کی تبدیلی تک۔

انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آلوک دیب نے کہا: ’’حکومت کی تبدیلی مشکل ہے کیونکہ ایران کے پاس فوجی اور سول قیادت کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کسی بھی لیڈر کی جگہ فوری طور پر سنبھال سکتی ہے، اور انہیں سول ڈیفنس بیوروکریسی کی حمایت بھی حاصل ہے۔‘‘

ماہرین اس تصور کو بھی خام خیالی قرار دیتے ہیں کہ ایرانی عوام، جو ماضی میں حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں، اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغاوت کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ایک قدیم قوم ہے جس میں قوم پرستی کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ وہاں کے لوگ شاید اس نوعیت کی افراتفری والی تبدیلی کے بدلے موجودہ (اگرچہ آمرانہ) استحکام کو قربان کرنا پسند نہ کریں، جیسی کہ اس سے قبل مغربی ایشیا کے دیگر ممالک میں دیکھی گئی ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے حکومت کی تبدیلی کے کسی بھی فوجی مشن کو مزید پیچیدہ اور چیلنجنگ بنا دیا ہے۔ معروف اسٹریٹجک تجزیہ کار برہما چیلانی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں نشاندہی کی ہے کہ اس ہلاکت نے براہِ راست ’’شہادت اور مزاحمت کے شیعہ تصورات‘‘ کو بیدار کر دیا ہے، جو کربلا میں امام حسینؑ کی شہادت کے واقعے سے جڑے ہیں۔

چیلانی کا خیال ہے کہ ’’ تہران عوامی غم و غصے کو ایک لازمی ’دیت ‘ میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔’’ اب کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو رہبرِ اعلیٰ کے قاتلوں کے ساتھ ملی بھگت قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ صورتحال نظام کے فوری خاتمے کی کسی بھی امید کو ختم کر دیتی ہے۔ قیادت کو ختم کرنے سے نظام کمزور ہونے کے بجائے مزید عسکری رنگ اختیار کر سکتا ہے۔ خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران ایک واضح ’فوجی مذہبی ریاست‘ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔‘‘

اس تمام صورتحال کی جڑ انتقام کی منطق میں چھپی ہے۔ ایرانی قیادت نے طویل عرصے سے اپنی بقا کا دارومدار جوابی کارروائی پر رکھا ہوا ہے، چاہے وہ براہِ راست ہو یا حزب اللہ (لبنان) اور حوثیوں (یمن) جیسے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے۔

اگر تہران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ امریکی حملے اس کے وجود کے لیے خطرہ ہیں، تو وہ نپی تلی جوابی کارروائی کے بجائے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ سکتا ہے۔ اس میں تیل کی تنصیبات پر مسلسل میزائل حملے شامل ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کی اپنی تیل کی پیداوار پر بھی جوابی حملے ہوں گے۔ ایسی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل، جو پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہے، مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے، جس سے یہ بحران ایک عالمی خطرے میں بدل جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر چار ہفتوں کے آپریشنل ٹائم لائن کا مشورہ دیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک امریکی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔ تاہم، ان کا پیغام ابہام کا شکار ہے کیونکہ ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت کے ساتھ ’ ڈیل‘ کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ایرانی حکام نے بھی اپنی جانب سے ملے جلے اشارے دیے ہیں؛ انہوں نے اصولی طور پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ سر پر بندوق رکھ کر (دباؤ میں) مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ ایک مانوس مگر خطرناک ’’جیسے کو تیسا‘‘ والی صورتحال کی شکل میں نکل رہا ہے، جہاں دونوں فریق بظاہر کشیدگی کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اگلے وار کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

ایڈمرل سنہا کا کہنا ہے: ’’ہمارے نظریہ کے مطابق ایران اپنے حملوں میں بہت انتخاب سے کام لے گا اور اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گا۔‘‘

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں چین کا کردار اہم ہے۔ جنوری کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بیجنگ نے ایران کو فوجی سازوسامان کی ایک بڑی کھیپ پہنچائی ہے، جس میں تین دنوں کے دوران 16 بڑے کارگو طیاروں کی آمد شامل ہے۔ اگرچہ تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے، لیکن تجزیہ کار اس امکان کو مسترد نہیں کرتے کہ آنے والی کھیپوں میں میزائل، ڈرونز یا دیگر جدید نظام شامل ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود، یہ پہلے سے طے نہیں ہے کہ یہ تنازع لازمی طور پر ایک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر لے گا۔ کئی عوامل ایک نہ ختم ہونے والی مہم کے خلاف جاتے ہیں۔ امریکہ کو اپنے ملک کے اندر سیاسی حدود، علاقائی اڈوں پر آپریشنل دباؤ اور خلیجی شراکت داروں کی جانب سے کسی طویل تصادم میں شامل ہونے سے گریز کا سامنا ہے۔

اسی طرح، ایران میں جانی نقصان، تباہ شدہ اثاثے اور اندرونی دباؤ حکام کو مذاکرات کی طرف دھکیل سکتے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ انتقام لینے کے شدید جذبات رکھتے ہوں۔

آخر کار یہ جنگ دونوں طرف موجود گولہ بارود کے ذخائر کے تابع ہو سکتی ہے، الا یہ کہ پوری دنیا—جو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، تجارت میں خلل، طویل غیر یقینی صورتحال اور جوہری جنگ کے خطرات سے خوفزدہ ہے—آگے بڑھے اور دونوں فریقوں کو ایک طویل جنگ کے بجائے فوری امن پر راضی کرنے کی کوشش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں