0

ایران بحران: جموں و کشمیر کے طلبہ کے والدین کا حکومتِ ہند سے فوری انخلاء کا مطالبہ

سری نگر،5 مارچ (یو این آئی) ایران میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے درمیان جموں و کشمیر کے سینکڑوں طلبہ کے والدین شدید خوف اور اضطراب کا شکار ہیں۔ والدین نے حکومتِ ہند سے اپیل کی ہے کہ ایران میں زیرِ تعلیم تمام بھارتی طلبہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر کے وطن واپس لایا جائے۔
وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی طلبہ ایران کے مختلف شہروں جیسے تہران، قم اور ارومیہ میں میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث یہ طلبہ مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے نے احتیاطی اقدام کے طور پر بعض طلبہ کو تہران سے قم منتقل کیا ہے، تاہم پورے ملک میں کشیدہ حالات کے باعث کوئی بھی جگہ محفوظ محسوس نہیں ہو رہی۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے کہا کہ ہر طرف خوف اور بے بسی کا ماحول ہے۔ طلبہ کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے باوجود حالات بہتر نہیں لگ رہے کیونکہ پورے ایران میں حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
ارومیہ میں طلبہ کے ایک ہوسٹل کے قریب زور دار دھماکوں کی اطلاعات نے والدین اور طلبہ کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ طلبہ کے مطابق یونیورسٹیوں کے اطراف کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
قم منتقل کئے گئے بعض طلبہ نے بھی بتایا کہ وہاں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد اس اقدام کی افادیت پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔
ایک اور والد نے کہا، ’ہمارے بچے شدید خوف میں ہیں۔ ہوسٹل کے قریب دھماکوں نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کر دیا ہے۔ وہ نہ ٹھیک سے سو پا رہے ہیں اور نہ ہی پڑھائی پر توجہ دے پا رہے ہیں۔ ہمیں ہر لمحہ ان کی جان کا خوف ستا رہا ہے۔‘
والدین اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بحران اب صرف سکیورٹی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ذہنی صحت کا بحران بھی بن چکا ہے، کیونکہ مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار ہیں، جبکہ کشمیر میں موجود ان کے خاندان بھی شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور طلبہ کے والدین نے وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بھارتی طلبہ کے لیے فوری اور منظم انخلاء کا منصوبہ تیار کیا جائے، جس کے تحت انہیں قریبی محفوظ ممالک جیسے آرمینیا یا آذربائیجان کے راستے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف داخلی منتقلی کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے فوری اور جامع انخلاء منصوبہ نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ بھارتی شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
والدین کے مطابق ایران کے مختلف حصوں میں اب بھی کئی طلبہ پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ واضح حکومتی منصوبہ یا ٹائم لائن سامنے نہ آنے سے ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
والدین نے حکومتِ ہند سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’ہم ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد واپس لایا جائے۔ ہر گزرتا گھنٹہ ہمارے خوف میں اضافہ کر رہا ہے۔‘
ذرائع کے مطابق حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایران میں موجود بھارتی شہریوں کی حفاظت کے لئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اب تک بڑے پیمانے پر انخلاء کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں