0

’ایران جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا،‘ ٹرمپ انتظامیہ کا انسدادِ دہشت گردی کا اعلٰی عہدیدار مستعفی

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے منگل کو اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جو کینٹ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ‘ایران ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں آ کر شروع کی۔’
جو کینٹ، جو ایک سابق سیاسی امیدوار بھی رہ چکے ہیں اور دائیں بازو کے انتہاپسند عناصر سے تعلقات رکھتے تھے، کو گذشتہ جولائی میں سینٹ نت 44 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے اس عہدے کے لیے توثیق کی تھی۔ بطور سربراہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر، وہ اس ادارے کے ذمہ دار تھے جو دہشت گردی کے خطرات کا تجزیہ اور سراغ لگانے کا کام کرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل، کینٹ نے واشنگٹن ریاست سے کانگریس کے لیے دو ناکام انتخابی مہمات چلائیں۔ وہ فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے گرین بیریٹ کے طور پر 11 بار تعیناتی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے سی آئی اے میں کام کیا۔
ان کے ماضی کے انتہائی دائیں بازو کے افراد اور سازشی نظریات سے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیموکریٹس نے کینٹ کی تقرری کی سخت مخالفت کی تھی۔
2022 کی انتخابی مہم کے دوران، کینٹ نے پراؤڈ بوائز نامی دائیں بازو کے عسکری گروپ کے رکن گراہم جورجنسن کو مشاورتی خدمات کے لیے ادائیگی کی تھی۔ وہ پیٹریاٹ پریئر کے بانی جوی گبسن کے ساتھ بھی قریبی طور پر کام کرتے رہے، اور مختلف دائیں بازو کی شخصیات کی حمایت حاصل کی۔
سینیٹ میں توثیق کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران کینٹ نے اس سازشی نظریے سے بھی لاتعلقی اختیار کرنے سے انکار کیا کہ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پر حملہ وفاقی ایجنٹس کے بھڑکانے پر ہوا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس غلط دعوے کی تردید کی کہ ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کا انتخاب ڈیموکریٹ جو بائیڈن کے خلاف جیتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں