سری نگر،11 مارچ (یو این آئی) ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھماکوں نے وہاں زیرِ تعلیم جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلبا کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ دھماکوں، خطرات اور غیر یقینی ماحول کے باوجود ہندوستانی سفارتخانہ تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ انخلا منصوبہ جاری نہ ہونے کے سبب طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت وطن واپسی کے لیے ایک نہایت مشکل اور مہنگا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جو ایران سے نکل کر آرمینیا کے راستے ہندوستان پہنچنے پر مشتمل ہے۔
طلبہ کے مطابق سفارتخانے نے واضح کر دیا ہے کہ فی الحال کوئی خصوصی پرواز یا ’ایئر لفٹ‘ نہیں چلائی جا رہی اور جو بھی وطن واپس جانا چاہتا ہے اسے پہلے آرمینیا سے نئی دہلی کی فلائٹ خود خریدنی ہوگی۔ ابھی تک جاری ایڈوائزری یہی ہے کہ طلبہ اپنی جگہ موجود رہیں، لیکن جو خود سے واپسی چاہتے ہیں وہ اپنی ذمہ داری پر آرمینیا کے راستے سفر کر سکتے ہیں۔ سفارتخانے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی طالب علم آرمینیا سے نئی دہلی کی کنفرم ٹکٹ سفارتخانے کو جمع نہیں کراتا، اسے سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سرحد پر 10 امریکی ڈالر ویزا فیس ادا کرنا لازمی ہے، اور اگر کوئی طالب علم اپنی فلائٹ سے پہلے آرمینیا پہنچ جاتا ہے تو اسے اپنی رہائش اور اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔
ارومیہ یونیورسٹی، قم، تہران، شیراز اور اصفہان میں زیرِ تعلیم طلبہ کا کہنا ہے کہ دھماکوں اور فضائی حملوں کی خبروں نے انہیں سخت خوفزدہ کر رکھا ہے۔ قم میں سفارتخانے کے زیرِ انتظام ایک ہوٹل میں ٹھہرائے گئے طلبہ نے بتایا کہ 8 مارچ کی رات ہوٹل کے قریب دو سے تین زوردار دھماکے ہوئے جن کی آواز نے ہر ایک کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ بعض عمارتیں چند سو میٹر کے فاصلے پر نشانہ بنیں، جس کے بعد بیشتر طلبہ رات بھر جاگتے رہے اور بیسمنٹ میں پناہ لیتے رہے۔
اسی دوران، آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر محمد مومن خان نے بتایا کہ ارومیہ یونیورسٹی کے 50 سے زائد طلبہ آرمینیا کے راستے واپسی کے لیے ٹکٹیں بک کر چکے ہیں۔ پہلی فلائٹ 15 مارچ کی صبح دبئی کے راستے نئی دہلی پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ دوسری 16 مارچ کو آئے گی۔ کئی دیگر شہروں کے طلبہ بھی انہی گروپوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف والدین شدید بے بسی اور غم میں مبتلا ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے کہا کہ ان کے بچے روزانہ دھماکوں کی آوازیں سن کر روتے ہوئے گھر فون کرتے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح انخلا پالیسی نہیں دی گئی۔ والدین کا کہنا ہے کہ آرمینیا کے ذریعے وطن واپسی پر ہر بچے کو تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ کرنا پڑ رہا ہے، جسے غریب اور متوسط گھرانے برداشت نہیں کر سکتے۔ کئی والدین نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خصوصی پروازوں کا فوری انتظام کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو خطرناک اور مہنگے راستے سے گزرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
طلبہ اور والدین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ دھماکوں اور خوف کے سائے میں بے سروسامانی کے عالم میں بیٹھے یہ نوجوان صرف ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ہند فوری قدم اٹھائے اور ان کے محفوظ انخلا کو یقینی بنائے۔
0
