0

ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کی واپسی کی اپیل، آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے انخلا کا مطالبہ

سری نگر،6 مارچ (یو این آئی) ایران میں جاری غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کے درمیان وہاں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف ایرانی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ انہیں پڑوسی ممالک آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے محفوظ طریقے سے بھارت واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
طلبہ نے متعلقہ حکام کو خطوط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ایران سے نکل کر ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کے ذریعے واپسی کی اجازت دی جائے، کیونکہ کئی ایرانی شہروں میں سلامتی کی صورتحال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے اور مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات نے طلبہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔
طلبا نے بتایا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بین الاقوامی طلبہ کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے اپنے ممالک واپس جانے پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ ہم مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سن رہے ہیں اور صورتحال کسی بھی وقت خراب ہو سکتی ہے، اس لیے ہم حکومت ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں آرمینیا یا آذربائیجان کے راستے محفوظ طریقے سے بھارت واپس لایا جائے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ شہر آرمینیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور مقامی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر سرحد کے ذریعے باہر جانے کا امکان موجود ہے۔ طلبہ کے مطابق اگر بھارتی حکومت اجازت دے تو وہ چند گھنٹوں میں آرمینیا پہنچ سکتے ہیں اور وہاں سے بھارت کے لیے پرواز لے سکتے ہیں۔
ادھر کئی طلبہ نے تہران میں بھارتی سفارت خانے کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں اور فوری انخلا کے حوالے سے واضح حکمت عملی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم سفارت خانے کی جانب سے فی الحال طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور مزید ہدایات تک اپنی رہائش گاہوں میں ہی رہیں۔
اس دوران آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایمسا) کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن خان، جو طلبہ اور اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے حکام سے بات کی ہے۔ ان کے مطابق وزارت نے فی الحال طلبہ کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سفر سے بچنے کی ہدایت دی ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران میں بھارتی سفارت خانے نے احتیاطی اقدام کے طور پر کئی طلبہ کو نسبتاً محفوظ مقامات، بشمول قم، منتقل کر دیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ سفارت خانہ طلبہ کو رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے مسلسل رابطے میں بھی ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کے والدین نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ طلبہ کو پڑوسی ممالک جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں سے اپنی مدد آپ کے تحت بھارت واپس آ سکیں۔
والدین نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے شدید فکر مند ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انہیں آرمینیا یا آذربائیجان جانے کی اجازت دے تاکہ وہ بحفاظت وطن واپس آ سکیں۔
اسی طرح سری نگر کے ایک اور والد نے کہا کہ اہل خانہ اپنے بچوں کی واپسی کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے خصوصی پروازوں کا مطالبہ نہیں کر رہے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو محفوظ طریقے سے پڑوسی ممالک تک جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں سے بھارت واپس آ سکیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں