تہران، 15 مارچ (یواین آئی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب اس بات کی پختہ ضمانت دی جائے کہ حملے دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔
عراقچی نے ایک معروف عربی اخبار ’العربی الجدید‘ سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ جنگ کا اختتام اسی وقت ممکن ہے جب حملوں کے دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے تنازع کے دوران ہوئے نقصان کے لیے ہرجانے یا معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی جو خطے میں ہوئے حملوں کی باریک بینی سے جانچ کر سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ تہران کی فوجی کارروائیاں صرف اس خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات تک محدود رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایران نے کسی پڑوسی ملک کے شہری یا رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔
عراقچی نے خدشہ ظاہر کیا کہ عرب ممالک کے شہری ٹھکانوں پر ہوئے حملوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ایران اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے خوشگوار تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے “شاہد” ڈرون کی طرز پر “لوکاس” نامی ایک نیا ڈرون بنایا ہے، جسے عرب ممالک میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے توانائی مراکز یا تیل کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران سخت جواب دے گا۔ ایسی صورت میں ایران خطے میں سرگرم امریکی کمپنیوں کے ٹھکانوں پر براہِ راست حملہ کرے گا۔
0
