0

این آئی اے عدالت کا سخت اقدام، اشتعال انگیز پروپیگنڈا کیس میں تین ملزمان کے خلاف اعلانِ اشتہاری جاری

سری نگر،30دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر میں ملک مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے تحت ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت سری نگر نے پولیس اسٹیشن کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر کی جانب سے درج مقدمہ ایف آئی آر نمبر 07/2020 میں ملوث تین ملزمان کے خلاف دفعہ 82 تعزیراتِ ہند کے تحت باقاعدہ اعلانِ اشتہاری جاری کر دیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہوئے اور عدالتی کارروائی سے مسلسل فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ کیس اُس وقت سامنے آیا جب قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات سے یہ انکشاف ہوا کہ بعض عناصر اندرون و بیرونِ وادی بیٹھ کر ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ مبالغہ آرائی، دشمن ملک کی زبان میں پروپیگنڈا، گمراہ کن بیانیہ اور علیحدگی پسندانہ مواد سوشل میڈیا پر پھیلا رہے تھے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ عناصر خود کو صحافی، فری لانسر اور نیوز پورٹل کے نمائندے ظاہر کرتے تھے، جبکہ حقیقت میں وہ فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ جیسی پلیٹ فارمز کو ہتھیار بنا کر جعلی، مبالغہ آرائی پر مبنی اور سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد نشر کرتے تھے۔ اس گمراہ کن ڈیجیٹل مہم کا مقصد عوام کو مشتعل کرنا، سڑکوں پر بدامنی پھیلانا، املاک کو نقصان پہنچانا اور انتظامی نظام کو درہم برہم کرنا تھا۔
سی آئی کے نے ملوثین کی شناخت مبین احمد شاہ ولد مرحوم علی محمد شاہ، ساکن ڈاک والی کالونی، جوار نگر سری نگر،عزیزالاحسن آشی عرف ٹونی آشی ولد نذیر احمد آشی، ساکن ڈاک والی کالونی، جواہر نگر سری نگر اور رفعت وانی دختر غلام محمد وانی، ساکن ترہگام، ضلع کپواڑہ کے بطور کی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ افراد بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف بیانیہ پھیلا رہے تھے اور جھوٹے، اشتعال انگیز اور من گھڑت بیانات کے ذریعے عوامی نظم و نسق کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
گرفتاری کے وارنٹس جاری ہونے کے باوجود تینوں ملزمان مسلسل روپوش ہیں جس پر خصوصی عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے دفعہ 82 سی آر پی سی کے تحت انہیں 31 جنوری 2026 سے قبل عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں دفعہ 83 کے تحت جائیداد کی قرقی سمیت مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سی آئی کے کے مطابق تینوں ملزمان اشتہاری قرار دیے جانے کے باوجود بیرونِ ملک یا پوشیدہ مقامات سے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور اشتعال انگیز اور فتنہ انگیز مواد پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد وادی میں بڑے پیمانے پر بدامنی اور تشدد بھڑکانا ہے۔
کاؤنٹر انٹیلی جنس نے واضح کیا ہے کہ قوم دشمن پروپیگنڈا اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی اور ایسے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں