0

برف ہی کشمیر کا آبی ذخیرہ ہے، ماہرین نے خشک موسم کے سنگین اثرات سے خبردار کر دیا

ری نگر،11جنوری(یو این آئی) کشمیر میں موسم سرما کی برفباری زرعی معیشت، باغبانی اور مجموعی آبی تحفظ کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، تاہم رواں برس مسلسل خشک موسم نے وادی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ خشک سالی یونہی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں آبپاشی، گھریلو پانی کی دستیابی اور فصلوں کی پیداوار پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وادی کی تقریباً ستر فیصد سے زیادہ باغات بارش پر منحصر ہیں اور یہاں کے قدرتی آبی نظام کا بڑا دارومدار انہی برفانی ذخائر پر ہوتا ہے جو سردیوں کے دوران جمع ہوتے ہیں۔ کم برفباری نہ صرف آبپاشی کے وسائل کو متاثر کرتی ہے بلکہ موسمِ گرما میں پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق برفباری وادی کے قدرتی آبی ذخائر کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان کے مطابق آہستہ آہستہ پگھلنے والی برف فصلوں، باغات اور گھریلو ضرورتوں کے لیے مسلسل پانی فراہم کرتی ہے۔ موسم سرما میں برفباری کا فقدان تشویشناک ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو فصلوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دھان کی فصل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی معمولی کمی بھی دھان کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین نے موجودہ خشک موسم کو باغبانی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمِ سرما کی نمی نہ ہونے سے مٹی کی قدرتی نمی ختم ہو جاتی ہے، جس سے درخت کمزور ہوتے ہیں اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درختوں کی جڑوں کی نشوونما اور پھول بننے کا عمل براہ راست موسمِ سرما کی نمی سے جڑا ہوتا ہے اور اس میں کمی آنے سے پھلوں کے سائز، معیار اور پیداوار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیب اور ناشپاتی جیسی حساس فصلیں اس موسمی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ برفباری کی کمی نہ صرف زراعت بلکہ آبی نظام، بجلی پیداوار، چشموں کے بہاؤ اور ماحولیات کے توازن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ وادی میں پینے کے پانی کی اسکیمیں زیادہ تر انہی برفانی ذخائر پر منحصر ہیں جو بہار کے موسم میں پگھلتے ہیں، اور ان میں کمی آنے سے مجموعی پانی کی قلت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں