0

بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت پر حملوں کے خلاف کانگریس کا جموں میں احتجاج

جموں،24 دسمبر(یو این آئی) جموں و کشمیر کانگریس نے بدھ کے روز جموں میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت پر حملوں اور تشدد کی شدید مذمت کی۔ پارٹی نے حکومتِ ہند سے اپیل کی کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور مداخلت کرے۔
احتجاجی ریلی کی قیادت جموں و کشمیر کانگریس کے ورکنگ صدر رمن بھلہ نے کی، جس میں کارکنوں نے پلے کارڈز اٹھا کر بنگلہ دیشی حکومت اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مظلوم اقلیتوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
رمن بھلہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں پر لگاتار حملے تشویش ناک ہیں اور حکومت کو ان کے تحفظ کے لیے فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور مودی حکومت اس سنگین صورتحال پر بروقت ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما ترنجیت سنگھ ٹونی نے مطالبہ کیا کہ سرکار بنگلہ دیشی ہندوؤں کے لیے سرحدیں کھولے تاکہ وہ دہشت کے ماحول سے باہر نکل سکیں۔ ان کا کہنا تھا، ’حکومت کو ہندوؤں کی حفاظت یقینی بنانی ہوگی۔ اگر پچھلے گیارہ برسوں میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا افراد کو بھارت میں رہنے دیا گیا ہے تو مظلوم ہندوؤں کے لیے راستہ کیوں نہیں کھولا جا رہا؟‘
کانگریس رہنماؤں نے اقلیتوں پر مبینہ حملوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاموشی اختیار کرنا بھی اس ظلم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ ڈھاکا پر سفارتی دباؤ بڑھائے اور ہندو کمیونٹی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید شدت سے اٹھایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں