سری نگر، 28 دسمبر (یو این آئی) کرائم برانچ کشمیر (سی بی کے) کی اقتصادی جرائم ونگ نے ایک بڑے پیمانے کے روزگار فراڈ سے متعلق ایک معاملے میں ایک ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرائم برانچ نے آر پی سی کے دفعات 420،467،468 اور 471 کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر 49/2022 میں معزز عدالت سٹی جج (سب رجسٹرار) سری نگر میں ایک جامع چارج شیٹ داخل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا جس میں ٹنگمرگ علاقے کے متعدد باشندوں نے الزام لگایا کہ انہیں ریاض احمد ٹپلو ولد محمد صدیق ٹپلو ساکن آنچار ڈاگہ پورہ صورہ سری نگر نے دھوکہ دیا۔
بیان میں کہا گیا: ‘الزام یہ ہے کہ ملزم نے معصوم بے روز گار نوجوانوں کو معروف اسپتالوں اور بینکوں میں سکیورٹی گارڈ کی نوکریاں دلانے کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری رقوم حاصل کیں جو مجموعی طور پر کئی لاکھ روپیے بنتی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ اس فراڈ کو جائز ثابت کرنے کے لئے ملزم نے مبینہ طور پر جعلی تقرری نامے اور یونیفارم کا سامان بھی فراہم کیا جس سے متاثرین کو یہ یقین دلایا گیا کہ نوکریوں کی پیشکش حقیقی ہے۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد کرائم کشمیر نے ایک جامع اور باریک بینی پر مبنی تفتیش شروع کر دی۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ملزم ‘ایس اے آئی این جی او کنسلٹنسی’ کے نام اور طرز پر ایک جعلی این جی او چلا رہا تھا اور اس فرضی ادارے کی آڑ میں ملزم منظم طریقے سے بے روز گار نوجوانوں کو جعلی تقرری خطوط اور جھوٹی نوکریوں کی یقین دہانیوں کے ذریعے دھوکہ دیتا رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ تفتیش سے حتمی طور پر ثابت ہوا کہ ملزم نے دانستہ طور پر دھوکہ دہی، جعلسازی اور جعلی دستاویزات کو اصلی ظاہر کرنے جیسے سنگین معاشی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور مجبور نوکریوں کے متلاشی افراد کا استحصال کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے اور خاطر خواہ شواہد جمع کرنے کے بعد اقتصادی جرائم ونگ نے با ضابطہ طور پر چارج شیٹ مجاز عدالت میں عدالتی جانچ اور سماعت کے لئے داخل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ روز گار سے متعلق فراڈ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے پر عزم ہے۔
0
