21ویں کانووکیشن میں خواتین کی نمایاں کامیابیوں، اے آئی اور اخلاقی اقدار پر زور
سرینگر//26فروری/ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو یونیورسٹی آف کشمیر کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو ”تبدیلی کا طاقتور ذریعہ“ سمجھیں اور قوم کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کریں۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے وائس چانسلر *پروفیسر نیلوفر خان، اساتذہ اور طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانووکیشن کی یہ تقریب نسلی تبدیلی، جدید تعلیم پر عوام کے اعتماد اور مستقبل کی امیدوں کی علامت ہے۔خواتین کی شاندار کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 249 گولڈ میڈلز میں سے 186 طالبات نے حاصل کیے، جبکہ 164 میں سے 108 پی ایچ ڈی ڈگریاں بھی خواتین کے حصے میں آئیں۔انہوں نے کہا: *”جب لڑکیوں کو مواقع، حوصلہ افزائی اور آزادی دی جاتی ہے تو وہ محض حصہ نہیں لیتیں بلکہ قیادت کرتی ہیں اور نئے معیارات قائم کرتی ہیں۔‘لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ کشمیر کے شاندار ثقافتی ورثے کا احترام کریں اور اسے آگے بڑھائیں، تاہم تیزی سے بدلتی عالمی صورتِ حال کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھیں۔ انہوں نے چارلس ڈارون کے نظری? موافقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ ارتقا ناگزیر ہے۔مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ذہانت کا نعم البدل نہیں بلکہ ایک مو ¿ثر آلہ سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا: ”اے آئی تحقیق، رہنمائی اور مسائل کے حل کو تیز کر سکتی ہے۔ اپنی ڈگری خود ڈیزائن کریں، کیونکہ سیکھنے کا عمل عمر بھر جاری رہتا ہے۔“انہوں نے طلبہ کو ناکامی سے نہ گھبرانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ناکامیاں اکثر نئے راستے اور مواقع کھولتی ہیں۔اخلاقیات اور اقدار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال تعصب سے پاک، ذمہ دارانہ اور معاشرے کے مفاد میں ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے روایتی تعلیمی حدود کو توڑنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ انجینئرنگ کو سماجی علوم، حیاتیات کو معاشیات اور دیگر شعبوں کے ساتھ جوڑ کر ہی جدید مسائل کا جامع حل ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کی قیادت تجسس، تخلیقی صلاحیت اور موافقت کی بنیاد پر ابھرے گی۔
