0

جموں وکشمیر میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی: مفتی اعظم جموں و کشمیر

سرینگر / 19 مارچ : جموں وکشمیر میں شوال کا چاند نظر آنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں یہاں عید الفطر 21 مارچ یعنی ہفتے کے روز منائی جائے گی۔ جموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر السلام نے کہا کہ جموں وکشمیر کی کسی بھی جگہ سے شوال کا چاند نظر آنے کی تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی مقام سے چاند نظر آنے کی کوئی بھی شہادتیں موصول ہوئی ہے،لہذا عید 21 مارچ کو تزک واحتشام کے ساتھ منائی جائے گی۔

مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے کہا ہے کہ چاند نظر آنے کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ ایسے میں رویت ہلال کمیٹی کے رکن میرواعظ عمر فاروق، مولانا رحمت اللہ اور دیگر کمیٹی کے دیگر اسلامی اسکالرز کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں عید سنیچر کو ہوگی۔ ادھر مرکزی زیر انتظام لداخ خطے میں بھی شوال کا چاند نظر آنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔جس کے مطابق وہاں بھی ہفتے کو عید منائی جارہی ہے۔

دوسری جانب جامع مسجد دہلی کے نائب شاہی امام جو کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کےنائب صدر بھی نے شوال کا چاند نظر نہ آنے کی تصدیق کرتے ہوئے عید الفطر 21مارچ کو منانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ کل شوال کا چاند نظر نہ آنے کے باعث عید الفطر کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔وہاں کے سرکاری اعلان کے مطابق مملکت میں عید الفطر کل یعنی 20 مارچ بروز جمعہ کو منائی جائے گی۔

عید الفطر جسے میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے، اسلام کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ یہ شوال کے مہینے کی پہلی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ اللہ کا شکر ادا کرنے کا دن ہے کہ اس نے ہمیں رمضان کے پورے مہینے میں روزے رکھنے اور نظم و ضبط میں رہنے کی توفیق دی۔ یہ دن ضرورت مندوں کی مدد کا پیغام بھی دیتا ہے۔ نماز عید سے پہلے فطرہ ادا کرنا ہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب ہے.

اس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عید پر کوئی بھی بھوکا نہ رہے اور وہ برادری کے ساتھ مل کر اس تہوار کو خوشی سے منا سکے۔عید الفطر منانے کا انحصار شوال کے چاند کے نظر پر ہوتاہے۔ایسے میں اسلامی کلینڈر کے مطابق عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام اور شوال کی یکم تاریخ کو منائی جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں