سرینگر:2 اپریل (عقاب نیوز ڈیسک)جموں و کشمیر کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے شمسی توانائی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مقامی اخبار ‘ڈیلی رائزنگ کشمیر’ میں 31 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ خبر میں پیش کیے گئے اعداد و شمار پرانے اور نامکمل ہیں، جن میں شمسی توانائی کی صلاحیت کو محض 79.48 میگاواٹ بتایا گیا تھا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور مارچ 2026 تک جموں و کشمیر میں نصب شدہ شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 250 میگاواٹ کا ہندسہ کامیابی سے عبور کر چکی ہے۔ اس شاندار کارکردگی میں روف ٹاپ سسٹم، آف گرڈ، ہائبرڈ اور زمین پر نصب کیے گئے تمام چھوٹے بڑے سولر منصوبے شامل ہیں۔
محکمے کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں شمسی توانائی کا شعبہ انتہائی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ سال 2021 میں یہ پیداواری صلاحیت صرف 49 میگاواٹ تھی جو 2023 میں بڑھ کر 80 میگاواٹ تک پہنچی، اور اب ‘پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا’ جیسے اہم اور انقلابی منصوبوں کے تحت اس میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ بیان میں ہائیڈرو پاور (3629 میگاواٹ) اور شمسی توانائی کے درمیان کیے گئے موازنے کو سراسر گمراہ کن قرار دیا گیا۔ محکمے نے واضح کیا کہ پن بجلی کا بنیادی ڈھانچہ کئی دہائیوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے، جبکہ شمسی توانائی کے شعبے نے خطے میں محض پچھلے تین سے پانچ سالوں میں زور پکڑا ہے۔ محکمے کے مطابق، اگر قابل تجدید توانائی کے چھوٹے پن بجلی منصوبوں (جو کہ تقریباً 269 میگاواٹ ہیں) سے شمسی توانائی کا موازنہ کیا جائے تو یہ زیادہ متوازن اور منصفانہ ہوگا، اور اس تناظر میں بھی شمسی توانائی کی ترقی کی شرح کہیں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
علاوہ ازیں، بیان میں جموں و کشمیر کی پیچیدہ جغرافیائی اور پہاڑی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بڑے پیمانے پر سولر پارک قائم کرنے کے لیے وسیع اور ہموار اراضی درکار ہوتی ہے (مثال کے طور پر 100 میگاواٹ منصوبے کے لیے 3 سے 4 ہزار کنال زمین)، جو اس خطے میں حاصل کرنا ایک مشکل امر ہے۔ اسی لیے حکومت نے مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھتوں پر لگائے جانے والے (روف ٹاپ) ڈی سینٹرلائزڈ سولر پینلز کو اسٹریٹجک ترجیح دی ہے۔ ‘پی ایم کسم’ (PM KUSUM) اسکیم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے محکمے نے بتایا کہ سال 23-2022 کے دوران 15.45 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے، جس میں سے 484.08 لاکھ روپے اسی مالی سال کے دوران استعمال ہوئے جبکہ بقیہ 10.41 کروڑ روپے کی رقم کو ری ویلیڈیٹ کر کے سال 24-2023 میں اسکیم پر خرچ کیا گیا۔ بیان کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ جغرافیائی چیلنجز کے باوجود، حکومت ٹارگیٹڈ اسکیموں، مالی مراعات اور موثر پالیسی سازی کے ذریعے شمسی توانائی کے استعمال کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے اور تنصیبات میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
0
