سرینگر//22فروری//یو این ایس جموں و کشمیر میں پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ ماہ شدید بجلی قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ پاور ڈیولپمنٹ (پی ڈی ڈی) اپنی مجموعی 1,197 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں اس وقت محض 277 میگاواٹ بجلی پیدا کر پا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق 900 میگاواٹ صلاحیت کے حامل بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ سے صرف 129 میگاواٹ بجلی حاصل ہوئی۔ اسی طرح جموں پی ڈی سی سے 80 میگاواٹ جبکہ جموں کے آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) سے صرف 10 میگاواٹ بجلی دستیاب ہوئی۔ کشمیر میں قائم پاور پلانٹس سے محکمہ محض 58 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکا۔۔ اندازوں کے مطابق دونوں مرکزی علاقوں میں 3,737 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوگی جبکہ دستیاب بجلی صرف 2,460 میگاواٹ رہے گی، یوں 1,277 میگاواٹ کا واضح فرق سامنے آ رہا ہے۔دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایچ پی ایس ایل ڈی سی، پنجاب ایس ایل ڈی سی اور جے اینڈ کے ایس ایل ڈی سی کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کمی کو ریئل ٹائم پاور ایکسچینج اور بینکنگ انتظامات کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔قبل ازیں یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ مقامی پاور پلانٹس سے پن بجلی پیداوار میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور مجموعی پیداوار میں 800 سے 900 میگاواٹ تک کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مختلف مقامی منصوبوں سے اس وقت 330 سے 400 میگاواٹ کے درمیان بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کے ایک یونٹ سے 250 سے 380 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ کشورپور اور نیو وانپوہ کے پاور پلانٹس سے زیادہ سے زیادہ ایک میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ مزید برآں حکام نے بتایا کہ کشمیر میں قائم پاور پلانٹس سے محکمہ صرف 71 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہے۔ماہرین کے مطابق موسم سرما کے دوران پانی کے بہاو ¿ میں کمی پن بجلی پیداوار میں گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے، جس کے باعث آئندہ مہینوں میں بجلی سپلائی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
0
