سری نگر،28فروری(یو این آئی) کرکٹ کی دنیا میں آج ایک ایسا تاریخی لمحہ رقم ہوا جسے جموں و کشمیر کے لوگ برسوں تک یاد رکھیں گے۔ ملک کے سب سے بڑے گھریلو ٹورنامنٹ رنجی ٹرافی میں پہلی بار جموں و کشمیر نے چیمپیئن بن کر ریاست کی شناخت کو ایک نئی چمک عطا کردی۔ کرناٹک کے شہر ہبلی میں کھیلے گئے فائنل کے ڈرا پر ختم ہونے کے باوجود جموں و کشمیر نے پہلی اننگز میں ملنے والی فیصلہ کن برتری کی بنیاد پر عنوان اپنے نام کر لیا، اور یوں ایک ایسا دن آیا جس کا انتظار ریاست کے کرکٹ شائقین دہائیوں سے کر رہے تھے۔
فائنل گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ہبلی کے پرجوش اسٹیڈیم میں جاری رہا، اور ہر سیشن کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جموں و کشمیر کی ٹیم اس بار تاریخ کا دھارا موڑنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ مقابل ٹیم کرناٹک کرکٹ ٹیم کا شمار ملک کی مضبوط ترین ٹیموں میں ہوتا ہے، جو اس سے پہلے آٹھ بار یہ اعزاز اپنے نام کر چکی ہے۔ لیکن اس بار حالات مختلف تھے—جموں و کشمیر کے کھلاڑی نہ صرف پُرعزم تھے بلکہ ان کی منصوبہ بندی، کارکردگی اور ٹیم ورک نے ایک ایسی کہانی لکھی جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔
یہ تاریخی لمحہ دیکھنے کے لیے جموں وکشمیر کے وزیرا علیٰ عمر عبداللہ، ایم ایل اے تنویر صادق اور مشیر اعلیٰ ناصر اسلم وانی بھی گزشتہ شام ہی ہبلی پہنچ گئے تھے۔ اسٹیڈیم میں ان کی موجودگی نہ صرف ٹیم کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنی بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی فخر کا لمحہ تھی، جو ٹی وی اور موبائل اسکرینوں کے ذریعے اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
فائنل کی پہلی اننگز میں جموں و کشمیر نے 584 رنز بنائے—ایک ایسا مجموعہ جو بڑی ٹیموں کے لیے بھی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ابتدا میں قامران اقبال کی وکٹ جلد گرنے سے ٹیم دباؤ میں آئی، لیکن یہاں سے اوپنر یاور حسن نے 88 رنز کی اننگز کھیل کر بنیاد مضبوط کی۔ اس کے بعد نوجوان سنسنی خیز بلے باز شوبھم پنڈیر نے 121 رنز کی شاندار سنچری جڑ کر اس فائنل کے بہاؤ کو جموں و کشمیر کی سمت موڑ دیا۔
کپتان پارس ڈوگرا کے 70 اور عبدالصمد کے 61 رنز نے ٹیم کو ایک بڑے اسکور کی جانب دھکیلا۔ بلے باز کنہیا وادھاون کے 70، ساحل لوترا کے 72 اور یودھویر سنگھ چاڑک کے 30 رنز نے اس مجموعے میں مزید وزن بڑھایا۔
یہ اسکور نہ صرف فائنل کو مضبوط بنیاد دیتا تھا بلکہ کرناٹک جیسی مضبوط ٹیم پر شدید دباؤ بھی ڈالتا تھا۔
کرناٹک کی ٹیم جب پہلی اننگز کھیلنے اتری تو انہیں معلوم تھا کہ 584 ایک دیوار ہے جسے عبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ جموں و کشمیر کے تیز گیند بازوں کی شاندار سوئنگ اور لائن لینتھ نے کرناٹک کی پوری بیٹنگ لائن اپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اس تباہ کن کارکردگی کی قیادت کی ’ورمول واریئر‘ کے لقب سے مشہور تیز گیند باز عاقب نبی نے۔
انہوں نے فائنل میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے نہ صرف میچ کا نقشہ بدل دیا بلکہ اس سیزن میں 60 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز بھی بن گئے۔
انہوں نے پہلا شکار کے ایل راہل کو بنایا، جنہیں ایک بہترین آؤٹ سوئنگ پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ پھر کرنا نائر اور بعد میں آر سمرن کی وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری طرف سنیل کمار نے کپتان دیودت پڈیکل کو پویلین بھیج کر کرناٹک کے ارادوں پر کاری ضرب لگائی۔
صرف ایک بلے باز—مایانک اگروال—نے 160 رنز بنا کر مزاحمت دکھائی، لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک جم نہ سکے۔ چوتھے دن انہیں بھی عاقب نبی نے ایل بی ڈبلیو کر کے تمام امیدوں کا خاتمہ کر دیا۔
کرناٹک 293 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور یوں جموں و کشمیر کو 291 رنز کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی۔
فالو آن کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرتے ہوئے جموں و کشمیر نے محتاط مگر پراعتماد انداز میں رنز بنائے۔ ابتدا میں چند وکٹیں جلد گر گئیں، لیکن پھر قامران اقبال اور ساحل لوترا نے وہ بیٹنگ پیش کی جس نے ہر کشمیری کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
قامران اقبال نے 160 رنز پر ناٹ آؤٹ رہ کر اپنے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی۔ ساتھ ہی ساحل لوترا نے 101 رنز بنا کر اننگز کو مزید وسعت بخشی۔ پانچویں دن تک ٹیم 324 رنز بنا چکی تھی اور مجموعی برتری 633 رنز تک پہنچ چکی تھی۔ اس مقام پر دونوں کپتانوں نے باہمی رضامندی سے میچ ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
جوں ہی یہ اعلان ہوا کہ جموں و کشمیر چیمپئن بن چکا ہے، پوری یو ٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سڑکوں، گھروں اور بازاروں میں نوجوان اپنے موبائل فونز لہراتے، پٹاخے چلاتے اور نعروں کے ساتھ اس کامیابی کا جشن منا رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔ ملک کے مختلف حصوں سے کرکٹرز، سیاست دانوں اور سابق کھلاڑیوں نے جموں و کشمیر کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو خود ہبلی میں موجود تھے، انہوں نے کہا:’یہ صرف ایک اسپورٹس کی جیت نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے جذبے، محنت اور حوصلے کی جیت ہے۔ آج پوری ریاست کو اس ٹیم پر فخر ہے۔‘
تنویر صادق اور ناصر اسلم وانی نے بھی اسے تاریخی دن قرار دیا اور کہا کہ یہ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے نئی امید لائے گی۔
یہ جیت محض ایک کھیل کی فتح نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کے نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل ہے جو اکثر مشکلات اور تنازعات کے درمیان جیت کی امید لیے میدان میں اترتے ہیں۔ رنجی ٹرافی جیسے بڑے ٹائٹل کا جیتنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہنر، عزم اور محنت کسی بھی بڑے پلیٹ فارم پر کامیابی دلا سکتے ہیں۔
یہ جیت مستقبل میں جموں و کشمیر کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے—چاہے وہ فرنچائز کرکٹ ہو، بھارت اے کی سطح ہو یا قومی ٹیم کی نمائندگی۔
نوجوانوں کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، قابلیت اور لگن کبھی ضائع نہیں جاتی۔
0
