0

جموں و کشمیر کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

پارلیمنٹ میں پیش اعداد و شمار نے صحتِ عامہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی
2021 سے 2025 تک نئے کیسوں اور اموات میں اضافہ، خواتین میں بریسٹ اور اوورین کینسر تشویشناک

سرینگر//16مارچ// پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے صحت عامہ کے شعبے میں ایک سنگین چیلنج کو جنم دیا ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں خطوں میں کینسر کے نئے کیسز اور اس سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے مختلف سوالات کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود پرتاپ راﺅ جادوکی جانب سے فراہم کیے گئے۔ یہ تخمینے انڈئن کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور اس کے ذیلی ادارے نیشنل سینٹر فار ڈئزیز انفارمیٹکس اینڈ ریسرچ کے تحت چلائے جانے والے نیشنل کینسر راجسٹری پروگرام کی رپورٹوں پر مبنی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2021 میں کینسر کے 13,060 کیس ریکارڈ کیے گئے تھے جو بڑھ کر 2025 میں 14,493 تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، یعنی پانچ برسوں میں تقریباً 11 فیصد اضافہ۔ اسی طرح کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد 2021 میں 7,211 سے بڑھ کر 2025 میں تقریباً 8,006 تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔خواتین میں پائے جانے والے کینسر کی اقسام کے حوالے سے بھی تشویشناک رجحانات سامنے آئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں بریسٹ کینسر کے کیس 2021 میں 908 تھے جو 2025 تک بڑھ کر 938 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح اس مرض سے اموات کی تعداد 390 سے بڑھ کر 403 تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔اسی طرح اوورین کینسر کے کیس بھی بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق جموں و کشمیر میں 2021 میں 371 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے جو 2025 تک بڑھ کر 383 تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ اس مرض سے اموات کی تعداد 226 سے بڑھ کر 234 تک پہنچنے کا امکان ہے۔سرویکل کینسر کے حوالے سے بھی صورت حال تشویشناک ہے، اگرچہ اس میں اضافہ نسبتاً کم ہے۔ جموں و کشمیر میں 2021 میں اس مرض کے 70 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے جو 2025 تک 73 تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اموات تقریباً 39 کے قریب رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس دوران حکومت کی جانب سے اسکریننگ پروگراموں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021-22 میں جموں و کشمیر میں صرف 10,441 خواتین کی سرویکل کینسر اسکریننگ کی گئی تھی، تاہم اگلے ہی سال یہ تعداد بڑھ کر 9.35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بعد کے برسوں میں بھی لاکھوں خواتین کی اسکریننگ کی گئی، جس سے ابتدائی مرحلے میں بیماری کی تشخیص میں مدد ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ماحولیاتی عوامل بھی کینسر کے پھیلاو ¿ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں پانی کے ذرائع میں صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز اور بھاری دھاتوں کی آلودگی کو بعض اقسام کے کینسر سے جوڑا گیا ہے، جو عوامی صحت کے لیے ایک اہم تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی حکومت کے مطابق ملک بھر میں کینسر کے علاج اور تشخیص کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹس اور ٹرشری کیئر کینسر سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ ضلع سطح پر ڈے کیئر کینسر سینٹرز کے قیام کا منصوبہ بھی جاری ہے۔اس کے علاوہ آیوشمان بھارت اور وزیر اعظم جن آروگیہ یوجناکے تحت مستحق خاندانوں کو سالانہ پانچ لاکھ روپے تک علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ سستی ادویات کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم بھارتیہ جن آوشدھی پری یوجنا اور دیگر اسکیموں کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جموں و کشمیر اور لداخ میں کینسر کے مجموعی کیسز قومی سطح کے مقابلے میں کم ہیں، تاہم جغرافیائی دوری، محدود طبی سہولیات اور علاج تک رسائی کے مسائل کے باعث ہر کیس صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ ایسے میں بروقت تشخیص، عوامی آگاہی اور بہتر طبی سہولیات کو یقینی بنانا نہایت ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں