سری نگر،23فروری(یو این آئی) جموں وکشمیر لداخ ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے معراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہوئی نظربندی کو چیلنج کرنے والی عرضی پر پیر کو فیصلہ محفوظ کر لیا۔
معراج ملک، جو عام آدمی پارٹی کی جموں و کشمیر یونٹ کے صدر بھی ہیں، کو 8 ستمبر گزشتہ برس پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ’امنِ عامہ میں خلل ڈالنے‘ کے الزام میں حراست میں لے کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔
اس نظربندی کے خلاف انہوں نے 24 ستمبر کو ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس میں نظربندی کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ ساتھ پانچ کروڑ روپے بطور معاوضہ دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
پیر کو کیس کی سماعت جسٹس محمد یوسف وانی کی عدالت میں ہوئی، جہاں فریقین کی مکمل دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس حوالے سے ایڈووکیٹ اپو سنگھ سلاتھیا نے بتایا کہ عدالت نے دونوں جانب معراج ملک کی قانونی ٹیم اور سرکار کو ایک ہفتے کے اندر تحریری دلائل یا اضافی نکات جمع کرانے کی اجازت دے دی ہے۔
ایڈووکیٹ سلاتھیا، جو عام آدمی پارٹی کی ترجمان بھی ہیں، نے سماعت کے بعد بتایا کہ یہ ایک طویل اور چیلنجنگ قانونی عمل رہا ہے، تاہم ان کی ٹیم کو عدلیہ پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تحمل اور مثبت رویہ اختیار کریں اور عدالتی فیصلے کا انتظار کریں۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا فیصلہ آئندہ دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے
0
