سری نگر، 11 مارچ (یو این آئی) جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک مکتوب ارسال کرکے راجستھان کے ضلع چتور گڑھ میں واقع میواڑ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کو در پیش مسائل کے پیش نظر ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کے خاتمے، معطلی کے احکامات کی منسوخی اور تعلیمی غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لئے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ایسو سی ایشن نے اپنے خط میں بتایا کہ اس وقت میواڑ یونیورسٹی میں بی ایس سی نرسنگ پروگرام کے پانچویں سمسٹر میں زیر تعلیم 50 سے زیادہ کشمیری طلبا شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مکتوب کے مطابق طلبا کو حال ہی میں معلوم ہوا کہ جس پروگرام میں انہیں داخلہ دیا گیا تھا اس کے پاس مبینہ طور پر انڈین نرسنگ کونسل (آئی این سی) اور راجستھان نرسنگ کونسل (آر این سی) کی لازمی منظوری موجود نہیں ہے جو بھارت میں نرسنگ تعلیم کے نگران ادارے ہیں۔
ایسو سی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھیوہامی نے کہا: ‘چونکہ اس ڈگری پروگرام کی تکیمل میں صرف چاہ ماہ باقی رہ گئے ہیں اس لئے طلبا اپنی ڈگری کی قانونی حیثیت، پیشہ ورانہ رجسٹریشن کی اہلیت اور مستقبل میں ملازمت کے امکانات کے حوالے سے شدید ذہنی دبائو اور بے چینی کا شکار ہیں، اگر واقعی اس پروگرام کو مطلوبہ منظوری نہیں ہے تو طلبا کی ڈگری پیشہ ورانہ پریکٹس کے لئے تسلیم نہیں کی جائے گی جس سے ان کے کئی سال کی محنت اور مالی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ان طلبا کو جموں وکشمیر اسکالر شپ اسکیم کے تحت داخلہ ملا تھا جس کی مالی اعانت بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔ طلبا پہلے ہی کئی سمسٹر مکمل کر چکے ہیں اور انہوں نے اس پروگرام میں خاصا وقت، محنت اور مالی وسائل صرف کئے ہیں لیکن حالیہ انکشافات کے بعد ان کی ڈگری کی قانونی حیثیت اور تعلیمی اسناد کی منظوری کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے’۔
ایسوسی ایشن کے مطابق طلبا نے یونیوسٹی انتظامیہ سے رابطہ کرکے پروگرام کی منظوری کی وضاحت اور سرکاری دستاویزات طلب کیں مگر الزام ہے کہ یونیورسٹی حکام ان کے سوالات کا واضح جواب دینے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں طلبا نے کورس کی منظوری کی حیثیت کے بارے میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کیمپس میں پر امن احتجاج کیا تاہم ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ طلبا کے خدشات دور کرنے کے بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج میں شامل 17 کشمیری طلبا کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی جنہیں بعد میں حراست میں لیا گیا۔
ایسو سی ایشن نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے خدشات اٹھانے پر 33 کشمیری طلبا کو معطل کیا جا چکا ہے۔
خط میں کہا گیا: ‘کیمپس کی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے اور طلبا اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ بعض طلبا کو چند اساتذہ کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا’۔
ایسوسی ایشن نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا کی سلامتی کو یقینی بنائیں، ان کے خلاف درج ایف آر آئیز کا جائزہ لیں اور ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے حکام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ یا تو اس کورس کے لئے ضروری منظوری حاصل کی جائے یا متاثرہ طلبا کو کسی منظور شدہ ادارے میں منتقل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔
0
