سرینگر// یکم مارچ / جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے مالی سال 2024–25 کے دوران 70.04 کروڑ روپے کا سرپلس حاصل کیا جبکہ مجموعی آمدنی 243.06 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔ طویل عرصے سے نقصانات اور واجبات کے بوجھ تلے دبی کارپوریشن کے لیے یہ ایک اہم مالیاتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔حکومت نے اعتراف کیا کہ کارپوریشن کو ماضی میں فرسودہ بیڑا، زیادہ مرمتی اخراجات، محدود استعمال، دشوار گزار جغرافیہ، سخت موسمی حالات اور نجی آپریٹروں سے مسابقت جیسے چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس کے علاوہ مقررہ کرایہ ڈھانچہ ایندھن اور دیگر اخراجات میں اضافے کے مطابق ایڈجسٹ نہ ہونے سے مالی دباو ¿ بڑھتا گیا۔ تنخواہوں، موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل کیس اور دیگر قانونی ذمہ داریوں نے بھی خسارے میں اضافہ کیا۔یو این ایس کے مطابق حکومت کے مطابق کارپوریشن پر اس وقت 2,014.70 کروڑ روپے کے واجبات حکومت کو ادا کرنے ہیں، جن میں 1,225.15 کروڑ روپے صرف سود کی مد میں شامل ہیں۔ اس رقم کی معافی کے لیے تجویز پیش کی جائے گی۔مالی اعداد و شمار کے مطابق 2021–22 میں 114.96 کروڑ روپے آمدنی کے مقابلے میں 130.51 کروڑ روپے اخراجات ہوئے اور 1.5.55 کروڑ روپے خسارہ درج ہوا۔ تاہم 2022–23 میں 197.21 کروڑ روپے آمدنی کے ساتھ 12.27 کروڑ روپے زائد حاصل کیا گیا۔ 2023–24 میں 216.17 کروڑ روپے آمدنی پر 22.54 کروڑ روپےزائد حصولیابی کا ریکارڈ ہوا، جبکہ 2024–25 میں یہ بڑھ کر 70.04 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔حکومت نے بتایا کہ 2021–22 کے بعد سے کارپوریشن نے اپنی وسائل سے 80.74 کروڑ روپے کی گریجویٹی اور لیو سیلری واجبات ادا کیں، جبکہ بقایا ریٹائرمنٹ واجبات 12.20 کروڑ روپے رہ گئے ہیں۔ آخری بجٹ امداد 7.50 کروڑ روپے 2022–23 میں دی گئی تھی اور اب تک مجموعی سرکاری امداد 788.92 کروڑ روپے رہی ہے۔کارپوریشن اس وقت 923 گاڑیوں پر مشتمل بیڑا چلا رہی ہے، جن میں 396 بسیں اور 527 ٹرک شامل ہیں۔ اوسطاً 83 فیصد گاڑیاں آپریشنل ہیں جبکہ 17 فیصد مرمت کے باعث زیر حراست ہیں۔ کارپوریشن کے پاس جموں و کشمیر کے اندر اور باہر 499.10 کنال اراضی بھی موجود ہے۔اثاثہ جاتی اصلاحات کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے اراضی کی مونیٹائزیشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ جموں اور سرینگر میں چھ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور دسمبر میں سرمایہ کار میٹنگ منعقد کی گئی۔ پانپور (سرینگر) اور نگروٹہ (جموں) میں آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز ہے جس سے سالانہ تقریباً 3 کروڑ روپے غیر آپریشنل آمدنی متوقع ہے۔بیڑے کی جدید کاری کے تحت 2019 میں حکومت ہند کی ’ایف اے ایم ای‘ اسکیم کے تحت 40 الیکٹرک بسیں حاصل کی گئیں، جن میں سے اس وقت 20 بسیں جموں ڈویژن میں فعال ہیں۔ محدود چارجنگ انفراسٹرکچر اور 100 کلومیٹر کی حد کے باعث یہ بسیں صرف شہری روٹس تک محدود ہیں۔ مزید 200 الیکٹرک بسوں کی خریداری ای ڈرائیو،وزیر اعظم اسکیم کے تحت تجویز کی گئی ہے۔کارپوریشن انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم بھی نافذ کر رہی ہے جس میں فلیٹ ٹریکنگ، الیکٹرانک ٹکٹنگ اور مرکزی نگرانی شامل ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مالی بحالی بہتر نظم و نسق، اضافی آمدنی کے ذرائع اور مالیاتی نظم و ضبط کا نتیجہ ہے، اگرچہ پرانے واجبات اب بھی طویل مدتی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
0
