0

ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری کا فیصلہ قریب

سرینگر//14جنوری//یو این ایس// جموں و کشمیر میں بلدیاتی اور دیہی جمہوری نظام کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم اعلیٰ سطحی سلیکشن کمیٹی رواں ماہ کے اواخر میں اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے، جس میں ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق حتمی سفارش طے کی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق یہ اجلاس 20 جنوری کے بعد کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے، جس میں تقرری کے لیے امیدوار کے نام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعلیٰ کے علاوہ قائد حزب اختلاف سنیل شرما، اسپیکر اسمبلی عبدالرحیم راتھر، سینئر کابینی وزیر سکینہ ایتو اور وزیر دیہی ترقی و پنچایتی راججاوید احمد ڈار شامل ہیں۔جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ 1989 کی دفعہ 36 کی ذیلی شق (3) کے مطابق ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری لیفٹیننٹ گورنر کرتے ہیں، تاہم یہ تقرری وزیر اعلیٰ کی قیادت میں قائم سلیکشن پینل کی سفارش پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس کو سیاسی اور آئینی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق جب جموں و کشمیر میں منتخب حکومت موجود نہ ہو اور خطہ صدر راج یا مرکزی انتظام کے تحت ہو، تو جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کی دفعہ 73 کے تحت ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں چونکہ منتخب حکومت موجود ہے، اس لیے تقرری کا اختیار سلیکشن کمیٹی کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں جموں و کشمیر اسمبلی نے ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت ریاستی الیکشن کمشنر کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 65 سال سے بڑھا کر 70 سال کر دی گئی۔ اس قانون میں ترمیم کو تقرری کے عمل کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری سے مقامی سطح پر انتخابات کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو سکے گا**، کیونکہ اس وقت جموں و کشمیر میں کوئی بھی منتخب بلدیاتی یا پنچایتی ادارہ موجود نہیں ہے۔ شہری بلدیاتی اداروں کی مدت نومبر 2023 میں ختم ہو چکی ہے، جبکہ منتخب پنچایتوں کی میعاد 9 جنوری 2024 کو مکمل ہوئی تھی۔ اسی طرح ضلع ترقیاتی کونسلوں کی مدت بھی فروری 2026 میں ختم ہونے جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی الیکشن کمشنر کی تقرری بروقت ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کی راہ ہموار ہوگی بلکہ نچلی سطح پر جمہوریت کی بحالی اور عوامی نمائندگی کا عمل بھی دوبارہ شروع ہو سکے گا، جس کا عوام طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں